پڑھنا جائز ہے۔.5مستغاث ہمیشہ مجرور یا منصوب ہوتاہے۔ .6جس پر درد کا اظہار کیا جائے اسے مندوب کہتے ہیں۔ .7مستغاث لہ مرفوع ہوتاہے۔
تمرین (3)
(الف)منادیٰ،منادیٰ مرخم، مستغاث، مستغاث لہ اورمندوب کی شناخت فرمائیے نیز اعراب اور بناء کے اعتبار سے اس کا حکم بھی بیان کیجیے۔
۱۔یُوۡسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ہٰذَا۔ ۲۔یَا لَرَسُوْلِ اللہِ لِلْغُرَبَاءِ۔ ۳۔یَا خَالُ اُسْکُتْ۔ ۴۔رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیۡنَا صَبْرًا وَّتَوَفَّنَا مُسْلِمِیۡنَ۔ ۵۔یَا حَسْرَتَاہْ۔ ۶۔یَا شَا۔ ۷۔یَا لَقَوْمٍ لِلْمَظْلُوْمِ۔ ۸۔مَنْ لَا یَزَالُ مُحْسِنًا أَحْسِنْ اِلَيَّ۔ ۹۔ہَلُمَّ یَا مِسْکِ۔ ۱۰۔وَا مَنْ قَلَعَ بَابَ خَیْبَرَ۔ ۱۱۔یَا عَمَّ اِخْشَ اللہَ۔ ۱۲۔یَا ثَمُوْ۔
(ب)درج ذیل جملوں میں غلطی کی نشاندہی فرما ئیے ۔
۱۔یَا غُلَا اَطِعْ سَیِّدَکَ۔ ۲۔أَیَا زَيْ اَدِّ حُقُوْقَکَ۔ ۳۔ہَیَا مُسْلِمُوْ أَطِیْعُوا اللہَ وَأَطِیْعُوا الرَسُوْلَ۔ ۴۔یَا جَعْ(جَعْفَرٌ)۔ ۵۔یَا أزہا (أَزْہَارٌ)۔ ۶۔یَا مُخْتُ(مُخْتَارٌ)۔ ۷۔یَا مَعْدِیْکَرُ(مَعْدِیْکَرِبُ)۔ ۸۔أَیَا مَالْ (مَالِکٌ)۔ ۹۔یَا لِلْأَمِیْرِ لَلْفُقَرَاءِ۔ ۱۰۔یَا لَلْمَلِکُ لِلْأَسِیْرَ۔ ۱۱۔یَا زُبُ (زبیر)۔
’’ذہبت ریحہ‘‘ اس کا لفظی ترجمہ ہے: اس کی ہوا چلی گئی، لیکن اس کا مجازی معنی ہے: اس کا اثر ونفوذ ختم ہوگیا، یا اس کی طاقت کم ہوگئی، اس معنی کی تعبیر کے لئے اردو میں یہ محاورہ استعمال ہوتاہے: اس کی ہوا اکھڑ گئی، قرآنِ کریم میں یہ محاورہ اسی مجازی معنی میں وارد ہوا ہے: ’’وَلَا تَنٰزَعُوۡا فَتَفْشَلُوۡا وَتَذْہَبَ رِیۡحُکُمْ‘‘ ترجمہ: آپس میں جھگڑا مت کرو (اگر ایسا کروگے تو)تم بزدل ہوجاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی/ تمہاری طاقت وقوت جاتی رہے گی۔ (عربی محاورات، ص۳۸)