.7مستغاث کے شروع میں لامِ استغاثہ ہو تومستغاث مجرور ہوگا، اوراس کے آخر میں الفِ استِغاثہ ہوتو وہ مفتوح ہوگا جیساکہ مثالوں سے واضح ہے۔
.8جس منادیٰ پر یَا یاوَا کے ذریعے درد کا اِظہارکیا جائے اُسے مندوب کہتے ہیں ، کسی فوت ہونے والے کوپکارکر غم کا اِظہار کیا جائے تو اسے مُتَفَجَّعٌ عَلَیْہِ عَدَمًا کہتے ہیں : یَا زَیْدُ(ہائے زید)اور کسی کی فوتگی کی وجہ سے لاحق تکلیف کو پکار کر غم کا اِظہار کیا جائے تو اسے مُتَفَجَّعٌ عَلَیْہِ وُجُوْدًا کہتے ہیں : وَامُصِیْبَۃُ۔(فو:۲۳۴)
.9مندوب کے آخر میں کبھی الف بڑھادیتے ہیں : وَا زَیْدَا۔اورکبھی الف کے بعد ہائے وقف بھی بڑھادیتے ہیں : وَا زَیْدَاہْ، وَا مُصِیْبَتَاہْ۔(کا:۳۳)
٭٭٭٭٭٭٭
تمرین (1)
س:.1ترخیم کسے کہتے ہیں نیز یہ کب جائز ہوتی ہے؟ س:.2ترخیم کی صورت میں کتنے حروف حذف کیے جاتے ہیں ؟ س:.3 منادیٰ مرخم کسے کہتے ہیں اوراسے کس کس طریقے سے پڑھنا جائز ہے؟ س:.4 مستغاث، مستغاث لہ اور مندوب کسے کہتے ہیں ؟ س:.5 متفجع علیہ عدما اور متفجع علیہ وجودا کسے کہتے ہیں ؟
تمرین (2)
غلطی کی نشاندہی کیجیے۔ .1منادیٰ کے آخر سے ایک یا دو حروف یا ایک جز کو حذف کردینا ترخیم ہے۔ .2منادیٰ علم اور مبنی ہوتواس میں ترخیم ہوسکتی ہے۔ .3ترخیم میں ہمیشہ ایک حرف حذف ہوتاہے۔ .4منادیٰ مرخم کومرفوع اور مجرور دونوں طرح