Brailvi Books

خُلَاصَۃُ النَّحْو
51 - 107
الدرس الثالث والستون
قسم اور جوابِ قسم کا بیان
	 جس جملے میں  قسم کھائی گئی ہو اُسے قسم، جس حرْف یا فعل کے ذریعے قسم کھائی گئی ہو اُسے اَداۃِ قسم، جس کی قسم کھائی گئی ہواُسے مُقسَم بِہاور جس بات پر قسم کھائی گئی ہو اُسے جواب ِقسمکہتے ہیں : وَاللہِ لَنْ أَکْذِبَ، أُقْسِمُ بِاللہِ مَا جَاءَ زَیْدٌ۔
قواعد وفوائد:
	.1قسم کے لیے یہ حروف آتے ہیں : بِ،وَ،تَ،لِ(۲۳)اورکبھی فعل بھی آتا ہے۔
	.2جوابِ قسم ٗجملہ اسمیہ مثبتہ ہوتواُس کے شروع میں  اِنَّ یا لام ِمفتوح کا ہونا ضروری ہے: وَاللہِ اِنَّ الْعَمَلَ شِعَارٌ لِلشَبَابِ، وَاللہِ لَلْعَمَلُ شِعَارٌ لَہُمْ۔
	اورمنفیہ ہو تواُس کے شروع میں  مَا       مُشابِہبِلَیْسَ،لائے نفی جنس یا اِنْ نافیہ کا ہونا  ضروری ہے: تَاللہِ مَا زَیْدٌ کَاتِبًا، بِاللہِ لَارَیْبَ فِیْہِ، لِلّٰہِ اِنْ ہٰذَا اِفْکًا۔(شما:۲۴)
	.3جواب قسم ٗجملہ فعلیہ مثبتہ ہوتوماضی کے ساتھ لفظلَقَدْاور مضارع کے ساتھ لامِ تاکیدمع نونِ تاکید آتاہے: وَاللہِ لَقَدْ فَازَ الْمُؤْمِنُ، وَاللہِ لَأَذْہَبَنَّ۔
	اورمنفیہ ہو تو ماضی کے ساتھمَا  اور مضارع کے ساتھلَایا لَنْ آتا ہے: وَاللہِ مَا وَعَدَ بَکْرٌ، وَاللہِ لَاأُکَلِّمُ فَاسِقًا، وَاللہِ لَنْ یَکْذِبَ زَیْدٌ۔(شما:۲۵)
	.4لَئِنْ، لَقَدْاورمضارع بانون ولام تاکیدسے پہلے قسم محذوف ہوتی ہے:لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ، لَقَدْ فُزْتُ، لَأَعْمَلَنَّ الْخَیْرَ۔ (ضح:۳۵۴)
٭٭٭٭٭٭٭