الدرس الثاني والستون
ترخیم ،اِستِغاثہ اورنُدْبَہ کا بیان
مُنادیٰ کے آخرسے ایک یا دوحروف یا ایک جز کو تخفیفًاحذْف کردیناترخیم کہلاتا ہے : یَا مَالِکُ، یَا مَنْصُوْرُ، یَا بَعْلَبَکُّ سے یَا مَالُ، یَا مَنْصُ، یَا بَعْلُ۔(کا:۳۰)
قواعد وفوائد:
.1منادیٰ میں ترخیم تب جائزہے جبکہ وہ علَم ہو، تین حروف سے زائد ہواور مبنی علی الضمّ ہویا منادیٰ کے آخر میں تاء ہو: یَا خَالِدُ، یَا شَاۃُ سے یَا خَالِ، یَا شَا۔ (کا:۳۱)
.2ترخیم میں ایک حرف گرتاہے: یَا نَاصِ۔ لیکن منادیٰ کے آخر میں حرفِ صحیح ماقبل مدہ زائدہ ہو تودوحروف گریں گے: یَا اِفْتِخَ(افتخار)۔اورمنادیٰ مرکب (مزجی یا عددی) ہو توآخری اسم گرجائے گا: یَا خَمْسُ(خَمْسَ عَشَرَۃَ)۔(کا:۳۲)
.3جس منادیٰ میں ترخیم کی گئی ہواُسے مُنَادیٰ مُرَخَّم کہتے ہیں۔(ھد:۸۶)
.4منادیٰ مرخّم کوضمّہ کے ساتھ اوراُس کی اپنی آخری حرکت کے ساتھ دونوں طرح پڑھنا جائز ہے: یَا حَارِثُ سے یَا حَارُ یا یَا حَارِ۔(کا:۳۲)
.5جسے مددکے لیے ندا کی گئی ہواُسے مُستَغاث یا مُستَغاث بِہ اور جس کی مدد کے لیے ندا کی گئی ہو اُسے مُستَغاث لَہ یا مُستَغاث لاِ َجْلہ کہتے ہیں : یَا لَلْقَوِيِّ لِلضَعِیْفِ۔
.6مستغاث بہ اور لہ دونوں پرحرف جرلام آتاہے جو اول میں مفتوح اور ثانی میں مکسور ہوتا ہے: یَا لَزَیْدٍ لِلْفَقِیْرِ۔کبھی مستغاث کے آخرمیں الف آتا ہے: یَا حُسَیْنَا لِلْأَسِیْرِ۔مستغاث میں آنیوالے لام کو لامِ استِغاثہ اور الف کو الفِ استِغاثہ کہتے ہیں۔