الدرس الحادي والستون
حروف نِدا اورمُنادیٰ کا بیان
جس حرف سے کسی کو پکاراجاتاہے اُسے حرفِ ندا اور جسے حرفِ ندا سے پکارا جائے اُسے مُنادیٰ کہتے ہیں : یَا نَبِيُّ۔(۲۲)
حروف نِدا پانچ ہیں : یَا، أَیَا، ھَیَا، أَيْ، أَ۔ أَيْاور أَ مُنادیٰ قریب ، أَیَا اور ھَیَا منادیٰ بعید اوریَا قریب وبعید سب کے لیے استعمال ہوتاہے۔(م:۶۶، ھد: ۳ ۸)
قواعد وفوائد:
.1منادیٰ مضاف یا مشابہ مضاف یا نکرہ ہوتو منصوب ہوگا: یَا سَیِّدَ الْبَشَرِ، یَا طَالِعًا جَبَلًا، یَا رَجُلًا خُذْ یَدِيْ(اے کوئی مرد! میرا ہاتھ پکڑ) اور مفرد معرفہ ہو تو ضمّہ ، الف یا واؤ پر مبنی ہوگا: یَا زَیْدُ، یَا رِجَالُ، یَا رَجُلَانِ، یَا مُسْلِمُوْنَ۔(م:۶۶)
.2 منادیٰ معرف باللا م ہو تو حرفِ ندا اور منادیٰ کے درمیان اَیُّھَا، ہٰذَا یا أَیُّہٰذَا کا اِضافہ کرتے ہیں : یَا أَیُّھَا الْاِنْسَانُ، یَا ہٰذَا الرَجُلُ۔(کا:۳۰)
.3 کبھی حرف ندا کو حذْف بھی کردیا جاتا ہے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِيُّ۔یہ اصل میں یَا اللہُ اور یَا أَیُّھَا النَّبِيُّ ہے ۔ (ھد:۸۴ )
.4منادیٰ لفظ غُلَامٌ، رَبٌّوغیرہ ہو اوریائے متکلم کی طرف مضاف ہو تو اُسے چار طریقوں سے پڑھ سکتے ہیں : یَا رَبِّيْ، یَا رَبِّيَ، یَا رَبِّ، یَا رَبَّا۔(کا:۳۱)
.5منادیٰ علَم ہو اور اُس کی صفَت لفظ اِبْنٌ یا اِبْنَۃٌ ہوجو ایک اور علَم کی طرف مضاف ہو تومنادیٰ کو مفتوح اور مضموم دونوں طرح پڑھنا جائز ہے جبکہاِبْنٌیا اِبْنَۃٌ صرف منصوب پڑھاجائے گا: یَا زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ، یَا ھِنْدُ ابْنَۃَ زَیْدٍ۔(کا:۳۰)