الدرس الحادي والخمسون
اَفعالِ مَدْح وذَمّ کا بیان
جواَفعال تعریف یامذمت کیلئے موضوع ہیں اُنہیں اَفعالِ مدْح وذمّکہتے ہیں ، یہ چار اَفعال ہیں : نِعْمَ، حَبَّذَا، بِئْسَاور سَاءَ۔ (ذم کے لیے لَاحَبَّذَا بھی آتاہے)
قواعد وفوائد:
.1ایک اسم اِن افعال کافاعل اورایک اسم مخصوص بالمدْح یا مخصوص بالذمّ ہوتا ہے(۱۲): نِعْمَ الْإدَامُ الْخَلُّ، بِئْسَ الشَرَابُ الْخَمْرُ۔(ص:۴/ ۳۹۳ )
.2اَفعالِ مدح وذم کا فاعل معرف باللام یامعرف باللام کی طرف مضاف ہوتا ہے: نِعْمَ الطَالِبُ بَکْرٌ، سَائَ طَالِبُ الْجَامِعَۃِ الْکَسُوْلُ۔(ص:۴/ ۹۳ ۳)
.3 کبھی اِن کا فاعل ضمیر مستتِرہو تاہے ،اِس صورت میں فعل کے بعدلفظ مَا (بمعنی شَیْئًا )یا کوئی نکرہ اسم(مطابقِ مخصوص) آتا ہے جواُس ضمیر کی تمییز بنتے ہیں : بِئْسَ خُلُقًا الْکِذْبُ، نِعْمَ مَا التَقْوٰی، نِعْمَ مَا یُزَیِّنُ الْمَرْءَ الْعِلْمُ۔(ضح:۴۴۶)
.4مخصوص ‘معرفہ یا نکرہ موصوفہ ہوگا نیزوحدت، تثنیہ، جمع اورتذکیروتانیث میں فاعل کے مطابق ہوگا: نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ہٰذِہٖ، نِعْمَ الْعَالِمُ عَالِمٌ عَامِلٌ۔(ضح: ۴۴۹)
.5مخصوص ‘ مرفوع ہوتاہے اورعمومًا یہ فاعل کے بعد آتاہے اور کبھی فعل سے پہلے آجاتاہے (جبکہ حَبَّذَا کا مخصوص نہ ہو): اَلصَبْرُ نِعْمَ الْوَصْفُ۔(ض:۴/۲۲۷)
.6حَبَّذَامیں حَبَّ فعلِ مدح اورذَا اسم اِشارہ اِس کا فاعل ہے اور یہ بدلتا نہیں اگرچہ مخصوص بدلتارہے: حَبَّذَا الْعُلَمَاءُ، لَاحَبَّذَا النَمَّامُ۔(کا:۱۱۲)