الدرس الخمسون
اَفعالِ قُلوب کا بیان
جواَفعال ایسے دومفعولوں کو نصب دیں جواصل میں مبتدا اور خبرہوں اُنہیں اَفعالِ قلوب کہتے ہیں : عَلِمَ، رَاٰی، وَجَدَ، ظَنَّ، حَسِبَ، خَالَ، زَعَمَ(۱۱)۔
اِن میں سے پہلے تین اَفعال یقین ظاہر کرتے ہیں : عَلِمْتُ الْعِلْمَ نَافِعًا۔ بعد کے تین اَفعال ظن پر دلالت کرتے ہیں : ظَنَنْتُ زَیْدًا شَاعِرًا۔اورزَعَمَ کبھی یقین اور کبھی ظن ظاہر کرتاہے : زَعَمْتُ بَکْرًا مُحْسِنًا۔(حل:۴/ ۳۱۸ ،ہد: ۲۹ ۲ ، ضح: ۱۳۷)
قواعد وفوائد:
.1یہ افعال جملہ اسمیہ پرداخل ہوکرمبتدا اورخبردونوں کو مفعولیت کی بنا پر نصْب دیتے ہیں جیسے مذکورہ بالامثالوں سے واضح ہے۔(ص:۴/۳۱۸،صا:۶۱۵)
.2چونکہ افعال قلوب کے دونوں مفعول اصل میں مبتدا اور خبر ہوتے ہیں اس لیے ان دونوں کے وہی اَحکام ہیں جو مبتدا اور خبر کے ہیں۔
.3افعال قلوب مبتدااور خبرکے درمیان یااِن دونوں کے بعد آئیں تواِن کو عمل دینا اور نہ دینا دونوں جائز ہیں : فَاطِمَۃُ عَلِمْتُ عَالِمَۃٌ۔(ص:۴/۳۲۸، ضح:۱۴۳)
.4 افعال قلوب کا خاصہ ہے کہ ان میں ایک شخص کی دو ضمیریں فاعل اور مفعول ہوسکتی ہیں : رَأَیْتُنِيْ رَاغِبًا فِي التَعَلُّمِ۔جبکہ دیگر افعال میں ایسا نہیں ہوسکتا۔
.5اِن افعال کا مفعول بہ اگر ایک ہی ہو تویہ افعالِ قلوب نہیں کہلائیں گے: ظَنَّ زَیْدًا(وہم کرنا ) عَلِمَ(پہچاننا) رَاٰی(دیکھنا) وَجَدَ(پانا) ۔(ص:۴/۳۲۵)