پر بھی کسرہ ہے: لِزَیْدٍ۔
(۳۱)…اسے ضمہ اس لیے دیا کہ اس کی نظیرہُمْ کا آخرواؤ کا ماقبل ہے؛ کیونکہ اس کی اصل ہُمُوْ ہے۔
(۳۲)…فعل کا معنی صلہ اور اختلافِ صلہ سے بدل جاتاہے لہذاعربی سمجھنے، بولنے، لکھنے اوراس کاصحیح ترجمہ کرنے کے لیے صلات کی معرفت بہت ضروری ہے۔ تفصیل کے لیے شیخ الادب مولانا رضوان احمد نوری صاحب کی کتاب ’’صلات الافعال‘‘اور کتب لغت کا بغور مطالعہ فرمائیں۔
(۳۳)…خیال رہے کہ تین مقامات پر جملہ بھی مفعول بہ واقع ہوتاہے : ۱۔وہ جملہ جو قَالَ اور اس کے مشتقات کے بعدواقع ہوجبکہ یہ نَطَقَ اور تَلَفَّظَ کے معنی میں ہوں : قَالَ الْمُعَلِّمُ فَازَ سَعِیْدٌ، یَقُوْلُ الْأَمِیْرُ اَلْمُجْتَہِدُ فَائِزٌ۔(یہاں فَازَ سَعِیْدٌاوراَلْمُجْتَہِدُ فَائِزٌ ٗقَالَاوریَقُوْلُ کامقول اور مفعول بہ ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہیں )
۲۔وہ جملہ جو افعال قلوب کے مفعول بہ اول کے بعد واقع ہو: ظَنَّ سَعِیْدٌ خَالِدًا یُسَافِرُ، حَسِبَ سَعِیْدٌ الْأَشْجَارَ أَوْرَاقُہَا تَسَاقَطُ۔ (یہاں یُسَافِرُ اور أَوْرَاقُہَا تَسَاقَطُ ٗظَنَّ اور حَسِبَ کا مفعول بہ ثانی ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہیں )
۳۔وہ جملہ جو باب أَعْلَمَ کے مفعول بہ ثانی کے بعد واقع ہو: أَنْبَأْتُ زَیْدًا بَکْرًا وَالِدُہٗ أَدِیْبٌ۔ (یہاں وَالِدُہٗ أَدِیْبٌ ٗ أَنْبَأْتُکا مفعول بہ ثالث ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے)
فائدہ: قَالَ سے فعل مضارع اگرظنّ کے معنی میں ہو، ضمیر خطاب کی طرف مسند ہو اور اس