تصغیر کی جائے گی پھر اگر وہ عاقل ہو تو اس کی جمع مذکر سالم اور غیر عاقل ہوتو جمع مؤنث سالم بنائی جائے گی، یہی جمع اُس جمع کثرت کی تصغیر کہلائے گی: شُعَرَاءُ، کُتَّابٌ، دَرَاہِمُ اورعَصَافِیْرُ سے شُوَیْعِرُوْنَ، کُوَیْتِبُوْنَ، دُرَیْہِمَاتٌ اورعُصَیْفِرَاتٌ۔
(۲۹)…یاد رہے کہ اسما میں اصل اعراب ، افعال اور حروف میں اصل بنا، اور بنا میں اصل سکون ہے لہذاجواسم معرب ہواس کے معرب ہونے اور جو فعل مبنی ہو اس کے مبنی ہونے کی کوئی وجہ ہونا ضروری نہیں ؛ کہ یہ مطابق اصل ہے ، ہاں ! اگر کوئی اسم مبنی ہوتو اس کے مبنی ہونے اور اگر کوئی فعل معرب ہوتو اس کے معرب ہونے کی وجہ ہونا ضروری ہے؛کہ یہ خلاف اصل ہے۔
پھرجس مبنی (اسم ، فعل خواہ حرف) پرکوئی حرکت (ضم، فتح یا کسر) ہو وہاں دو سوال ہوں گے: ۱۔اسے حرکت کیوں دی گئی؟ ۲۔ یہی حرکت (ضم یا فتح یا کسر) کیوں دی گئی؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے ہمیں کسی مبنی کو حرکت دینے اور حرکت خاصہ دینے کی وجوہات معلوم ہونا ضروری ہے ۔لہذا اس سبق میں مبنی کو مطلق حرکت دینے کی وجوہات پھر علی الخصوص ضم یافتح یا کسر دینے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں ۔ لیکن چونکہ اس طرح کے امور از قبیل نکات ولطائف ہوتے ہیں جن کا مقصد کسی اختیار کردہ شق کی وجہ اختیار وترجیح کا بیان ہوتاہے وبس اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ مقام واحد میں ایک سے زائد لطائف جمع ہوجائیں ! لہذا امثال مقام میں اطراد وانعکاس کے درپے ہونا کارخرد منداں نیست؛ فإنہ إلزام ما لا یلزم۔
(۳۰)…یہاں لامِ امر کو کسرہ اس لیے دیاکہ اس کے مقابل یعنی لامِ جارہ