(۲۶)…لیکن جس جمع کا واحد نہ ہو: أَبَابِیْلُ۔یا وہ غیر مفرد پر بنائی گئی ہو: مَحَاسِنُ (حُسْنٌ کی جمع) یا اس کا واحدمن لفظہ نہ ہو(جیساکہ اسم جمع میں ہوتا ہے) : قَوْمٌ۔ یا اس کے اور واحد کے درمیان یائے نسبت یا تائے تانیث سے فرق کیا جاتا ہو (جیساکہ اسم جنس جمعی میں ہوتاہے) : عَرَبٌ، رُوْمٌ، تَمْرٌ، تُفَّاحٌ۔ یاجمع کو علم یا علم کی طرح بنادیاگیاہو: حَضَاجِرُ، أَنْصَارٌ۔تو ان سب صورتوں میں نسبت لفظ کی طرف ہی کی جائے گی: أَبَابِیْلِيٌّ، مَحَاسِنِيٌّ، قَوْمِيٌّ، عَرَبِيٌّ، رُوْمِيٌّ، تَمْرِيٌّ، تُفَاحِيٌّ، حَضَاجِرِيٌّ، أَنْصَارِيٌّ۔
(۲۷)…یعنی الف کو واو سے بدل دینا یا الف کو حذف کردینا ، مگر خیال رہے کہ یہ دونوں امر اسی وقت جائز ہوں گے جبکہ اسم مقصور کا دوسرا حرف ساکن ہو کما أشرت إلیہ في المثال اگر دوسرا حرف متحرک ہوتوالف کو حذف کرنا واجب ہے: جَمَزًی (تیز چال)سے جَمَزِيٌّ۔
تنبیہ: بعض نحاۃ نے الف مقصورہ کو پانچویں جگہ ہونے کی صورت میں واو سے بدلنا بھی جائز قرار دیاہے: مُصْطَفًی سے مَصْطَفَوِيٌّ۔
(۲۸)…جو علم مرکب اسنادی ہوجیسے : تَأَبَّطَ شَرًّا، جَادَ الْحَقُّ، شَابَ قَرْنَاہَا وغیرہ اس کی تصغیر نہیں ہوسکتی۔
فائدہ: جمع قلت کی تصغیر اس کے لفظ ہی پر کی جائے گی: أَحْمَالٌ، أَنْفُسٌ، أَعْمِدَۃٌ اور غِلْمَۃٌ سے أُحَیْمَالٌ، أُنَیْفِسٌ، أُعَیْمِدَۃٌاور غُلَیْمَۃٌ۔ جبکہ جمع کثرت کی تصغیر اس کے لفظ پر نہیں کی جائے گی بلکہ اوّلًا اسے مفرد کی طرف لوٹایا جائے گا پھر اس مفرد کی