سے کسی شخص کو ندا دینا مقصود نہیں بلکہ اپنے آپ کو خاص کرنا مقصود ہے مطلب یہ ہے کہ مردوں میں خاص طور پر میں ایسا کروں گا۔ اسی طرح عرب کا قول ہے: نَحْنُ نَفْعَلُ کَذَا أَیُّہَا الْقَوْمُ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَنَا أَیَّتُہَا الْعِصَابَۃُ۔
(۲۳)…یاد رہے کہ ان حروف جارہ میں سے تَ اوروَ صرف قسم کے لیے آتے ہیں اور ان کا فعل ہمیشہ محذوف ہوتاہے، بَ اورلَِ قسم کے علاوہ دیگر معانی کے لیے بھی آتے ہیں اوران سے پہلے فعل قسم ذکر کرنا جائزہے۔
(۲۴)…خیال رہے کہ جو معنی کلام کی ایک نوع کو بدل کر اسے دوسری نوع بنادے جیسے: استفہام، قسم، تمنی، ترجی،شرط، تعجب، ضمیر شان اور لام ابتداء وغیرہ اس کے لیے صدر کلام ہے یعنی اس کا شروع کلام میں ہونا ضروری ہے۔لہذا جو مبتداایسے معنی پر مشتمل ہوگا اس مبتداکی تقدیم واجب ہوگی اورجب خبر ایسے معنی پر مشتمل ہوگی تواس خبر کی تقدیم واجب ہوجائے گی۔
(۲۵)…خیال رہے کہ اگر یہ لام کلمہ تثنیہ یا جمع کے صیغے میں لوٹایا جاتاہو تو نسبت میں اسے لوٹانا واجب ہے ورنہ واجب نہیں جیسیأَبٌ کے تثنیہأَبَوَانِ اور سَنَۃٌ کی جمع سَنَوَاتٌ میں لام کلمہ لوٹایاگیا ہے ؛لہذا نسبت میں اسے لوٹانا واجب ہے اور دَمٌ کے تثنیہ دَمَانِ اورلُغَۃٌ کی جمع لُغَاتٌ میں لام نہیں لوٹایا گیاہے ؛ لہذا نسبت میں اسے لوٹانا واجب نہیں : دَمِيٌّ، لُغِيٌّ۔ وللإشارۃ إلی ہذا أوردت في الکتاب مثالین مما یجب فیہ ردّ اللام المحذوفۃ عند النسبۃ ومثالین مما لا یجب فیہ ذلک۔