Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
93 - 161
سرہانے رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی ،''اے میرے بیٹے ! معلوم نہیں تیرے کس رخسار کو کیڑوں نے پہلے کھایا ہو گا؟'' یہ سن کر حضرت داؤد طائی رضي اللہ تعالي عنہ  نے ایک چیخ ماری اور اسی جگہ گر گئے۔
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)
 (88)     (جنت کا دروازہ کھلتا ہے یا دوزخ کا؟۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُناسروق الاجوع تابعی رضي اللہ تعالي عنہ  اتنی لمبی نماز ادا فرماتے کہ ان کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے اور یہ دیکھ کر ان کے گھر والوں کو ان پر ترس آتا اور وہ رونے لگتے۔ ایک دن ان کی والدہ نے کہا،''میرے بیٹے!تو اپنے کمزور جسم کا خیال کیوں نہیں کرتا؟ اس پر اتنی مشقت کیوں لادتا ہے ؟ تجھے اس پر ذرا رحم نہیں آتا ؟ کچھ دیر کے لئے آرام کر لیا کرو ، کیا اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ صرف تیرے لئے پیدا کی ہے کہ تیرے علاوہ کوئی اس میں پھینکا نہیں جائے گا ؟''انہوں نے جواباً عرض کی ،''امی جان! انسان کو ہر حال میں مجاہدہ کرنا چاہے کیونکہ قیامت کے دن دو ہی باتیں ہوں گی ، یا تو مجھے بخش دیا جائے گا یا پھر میری پکڑ ہوجائے گی،اگر میری مغفرت ہوگئی تو یہ محض اللہ تعالی کا فضل اور اس کی رحمت ہوگی اور اگر میں پکڑا گیا تو یہ اس کا عدل ہو گا ، لہذا اب میں آرام نہیں کروں گا اور اپنے نفس کو مارنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا ۔

    جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے گریہ وزاری شروع کر دی ۔ لوگوں نے پوچھا،''آپ نے تو ساری عمر مجاہدوں اور ریاضتوں میں گزاری ہے ، اب کیوں رو رہے ہیں؟'' تو آپ نے فرمایا،''مجھ سے زیادہ کس کو رونا چاہيے کہ میں ستر سال تک جس دروازے کو کھٹکھٹاتا رہا ،آج اسے کھول دیا جائے گا لیکن یہ نہیں معلوم کہ
Flag Counter