میں بوڑھے بھی تھے اور نوجوان بھی جو فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھتے تھے حتی کہ طویل قیام کی وجہ سے ان کے پاؤں سوج گئے تھے اور آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں ،ان کی جلد کا چمڑا ہڈیوں سے مل گیا تھا اور رگیں باریک تاروں کی مثل معلوم ہوتی تھیں ۔ ان کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ گویا ان کی جلد تربوز کا چھلکا ہو اور وہ قبروں سے نکل کر آرہے ہوں ۔ ہمارے درمیان یہ گفتگو چل رہی تھی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اطاعت گزار لوگوں کو عزت بخشی اور نافرمان لوگوں کو ذلیل کیا، کہ اسی دوران ان میں سے ایک نوجوان بے ہوش ہو کر گر گیا اور اس کے دوست اسکے گرد بیٹھ کر رونے لگے ۔ سخت سردی کے باوجود اس کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوا تھا ۔ پانی لاکر اس کے چہرے پر چھڑکا گیا تو اسے افاقہ ہوا ۔ جب اس سے ماجرا پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ''مجھے یہ یاد آگیا تھا کہ میں نے اس جگہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی ۔''