Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
92 - 161
میں بوڑھے بھی تھے اور نوجوان بھی جو فجر کی نماز عشاء کے وضو سے پڑھتے تھے حتی کہ طویل قیام کی وجہ سے ان کے پاؤں سوج گئے تھے اور آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں ،ان کی جلد کا چمڑا ہڈیوں سے مل گیا تھا اور رگیں باریک تاروں کی مثل معلوم ہوتی تھیں ۔ ان کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ گویا ان کی جلد تربوز کا چھلکا ہو اور وہ قبروں سے نکل کر آرہے ہوں ۔ ہمارے درمیان یہ گفتگو چل رہی تھی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اطاعت گزار لوگوں کو عزت بخشی اور نافرمان لوگوں کو ذلیل کیا، کہ اسی دوران ان میں سے ایک نوجوان بے ہوش ہو کر گر گیا اور اس کے دوست اسکے گرد بیٹھ کر رونے لگے ۔ سخت سردی کے باوجود اس کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوا تھا ۔ پانی لاکر اس کے چہرے پر چھڑکا گیا تو اسے افاقہ ہوا ۔ جب اس سے ماجرا پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ''مجھے یہ یاد آگیا تھا کہ میں نے اس جگہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی ۔''
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)
 (86)             ( انتقال کر گئے۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا زُرارہ بن ابی اوفی رضي اللہ تعالي عنہ  نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے یہ آیت پڑھی،
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیۡرٌ ۙ﴿۹﴾
ترجمہ کنزالایمان:پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن کرّا(سخت) دن ہے ۔''( المدثر: ۸،۹) تو آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے اور انتقال کر گئے ۔
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)
 (87)     (تیرے کس رخسار کو کیڑوں نے کھایا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُناداؤد طائی ص نے ایک خاتون کو دیکھا جو اپنے بچے کی قبر کے
Flag Counter