مروی ہے کہ حضرت رابعہ بصریہ رضی اللہ عنہا کا معمول تھا کہ جب رات ہوتی اور سب لوگ سو جاتے تو اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتیں ،''اے رابعہ (ہوسکتا ہے کہ)یہ تیری زندگی کی آخری رات ہو ، ہو سکتا ہے کہ تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو چنانچہ اٹھ اور اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کر لے تاکہ کل قیامت میں تجھے ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے ، ہمت کر ، سونا مت ، جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر۔۔۔۔۔۔۔''
یہ کہنے کے بعد آپ اٹھ کھڑی ہوتیں اور صبح تک نوافل ادا کرتی رہتیں ۔ جب فجر کی نماز ادا کر لیتیں تو اپنے آپ کو دوبارہ مخاطب کر کے فرماتیں،''اے میرے نفس!تمہیں مبارک ہو کہ گزشتہ رات تونے بڑی مشقت اٹھائی لیکن یاد رکھ کہ یہ دن تیری زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے۔''یہ کہہ کر پھر عبادت میں مشغول ہو جاتیں اور جب نیند کا غلبہ ہوتا تو اٹھ کر گھر میں ٹہلنا شروع کر دیتیں اور ساتھ ساتھ خود سے فرماتی جاتیں ، ''رابعہ! یہ بھی کوئی نیند ہے،اس کا کیا لطف؟ اسے چھوڑ دو اور قبر میں مزے سے لمبی مدت کے لئے سوتی رہنا،آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات میں نیند خوب آئے گی ،ہمت کرو اور اپنے رب کو راضی کر لو۔''
اس طرح کرتے کرتے آپ نے پچاس سال گزار دئيے کہ آپ نہ تو کبھی بستر پر دراز ہوئیں اور نہ ہی کبھی تکیہ پر سر رکھا یہاں تک کہ آپ انتقال کر گئیں۔