Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
89 - 161
آپ نماز کی نیت باندھ لیتے ۔ اکثر اللہ تعالیٰ سے یہ بھی عرض کرتے ،''آج مجھے جن مصائب کا سامنا ہے ، وہ تیرے سامنے عرض کردیتا ہوں ، لیکن کل میدانِ محشر میں میری بداعمالیوں کی وجہ سے جو اذیت پہنچے گی ،اس کا اظہار کس سے کروں؟ لہذا ! اے رب العالمین ! مجھے عذاب کی ندامت سے چھٹکارا عطا فرما دے۔''
 (تذکرۃ الاولیاء ،ص۱۱۹)
 (79)         (میں مجرموں میں سے ہوں۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا مسور بن محزمہ رضي اللہ تعالي عنہ  شدتِ خوف کی وجہ سے قرآن پاک میں کچھ سننے پر قادر نہ تھے ، یہاں تک کہ ان کے سامنے ایک حرف یا کوئی آیت پڑھی جاتی تو چیخ مارتے اور بے ہوش ہوجاتے ،پھر کئی دن تک ان کو ہوش نہ آتا۔ایک دن قبیلہ خشعم کا ایک شخص ان کے سامنے آیا اور اس نے یہ آیت پڑھی ،
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا ﴿ۘ۸۶﴾
ترجمہ کنزالایمان :جس دن ہم پرہیز گاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بنا کر ، اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے ۔

(پ ۱۶، مریم ۸۵،۸۶)
    یہ سن کر آپ نے فرمایا ،''آہ!میں مجرموں میں سے ہوں اور متقی لوگوں میں سے نہیں ہوں ، اے قاری ! دوبارہ پڑھو ۔''اس نے پھر پڑھا تو آپ نے ایک نعرہ مارا اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
 (احیاء العلوم ء ج ۴، ص ۲۲۶)
 (80)          ( چارماہ بیمار رہے۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا یحیی بکاء (یعنی بہت رونے والے) رضي اللہ تعالي عنہ کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی ،
Flag Counter