(81) ( سرپر ہاتھ رکھ کر پکار اٹھے۔۔۔۔۔۔ )
حضرت مالک بن دینار رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بیت اللہ شریف کا طواف کررہا تھا کہ میں نے ایک عبادت گزار کنیز کو دیکھا جو کعبہ مشرفہ کے پردوں سے لٹکی ہوئی تھی اور کہہ رہی تھی ،'' کتنی ہی خواہشات ہیں جن کی لذت چلی گئی اور سزا باقی ہے ، اے میرے رب عزوجل ! کیا تیرے ہاں جہنم کے سوا کوئی اور عذاب نہیں ہے ۔'' یہ کہہ کر وہ مسلسل روتی رہی حتی کہ فجر کا وقت ہوگیا ۔ جب میں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر چلا اٹھا،''مالک پر اس کی ماں روئے ۔(یعنی ہمارا کیا بنے گا؟)''
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)
(82) (تجھ سے حیاء آتی ہے۔۔۔۔۔۔ )
منقول ہے کہ یوم عرفہ میں لوگ دعا مانگنے میں مصروف تھے اور حضرت فضیل رضي اللہ تعالي عنہ بھی گمشدہ بچے کی دل جلی ماں کی طرح رو رہے تھے ۔ جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوا تو آپ نے اپنی داڑھی پکڑ کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا،''اگر تو مجھے بخش بھی دے تو پھر بھی مجھے تجھ سے بہت حیاء آتی ہے ۔''پھر لوگوں کے ہمراہ واپس