| خوف خدا عزوجل |
ماضر من کانت الفردوس مسکنہ ماذا تحمل من بؤس واقتار تراہ یمشی کئیبا خائفا وجلا الی المساجد یمشی بین اطمار یانفس مالک من صبر علی لھب قد حان ان تقبلی من بعد ادبار
یعنی
٭مشقت وتنگی برداشت کرنا اس کے لئے نقصان دہ نہیں ، جس کا مسکن اور جائے قرار جنت الفردوس ہے ۔
٭ایسا شخص دنیا میں غم زدہ ، خائف اور معاملاتِ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے ۔ عاجزی ومسکینی کا لباس زیبِ تن کئے ادائے نماز کے لئے مسجدکی طرف اس کی آمدو رفت جاری رہتی ہے۔
٭ اے نفس ! تجھ میں آتشِ دوزخ کے شعلے برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے اور برے اعمال کی وجہ سے قریب ہے کہ تجھے ذلیل وخوار ہونے کے بعد وہ عذاب برداشت کرنا پڑے ۔(منہاج العابدین، ص ۱۵۲)
(78) ( اظہار کس سے کروں؟۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا ذوالنون مصری رضي اللہ تعالي عنہ نماز کی نیت کرتے وقت بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے ،''اے مالک ومولا !تیری بارگاہ میں حاضری کے لئے کون سے پاؤں لاؤں ، کن آنکھوں سے قبلہ کی جانب نظر کروں ، تعریف کے وہ کون سے لفظ ہیں جن سے تیری حمد کروں ؟ لہذا! مجبوراً حیاء کو ترک کر کے تیرے حضور حاضر ہو رہا ہوں ۔''پھر