Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
88 - 161
    پھر حضرت سفیان ثوری رضي اللہ تعالي عنہ  نے یہ اشعار پڑھے
ماضر من کانت الفردوس مسکنہ 		ماذا تحمل من بؤس واقتار

تراہ یمشی کئیبا خائفا وجلا			الی المساجد یمشی بین اطمار

یانفس مالک من صبر علی لھب		قد حان ان تقبلی من بعد ادبار
یعنی 

    ٭مشقت وتنگی برداشت کرنا اس کے لئے نقصان دہ نہیں ، جس کا مسکن اور جائے قرار جنت الفردوس ہے ۔

    ٭ایسا شخص دنیا میں غم زدہ ، خائف اور معاملاتِ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے ۔ عاجزی ومسکینی کا لباس زیبِ تن کئے ادائے نماز کے لئے مسجدکی طرف اس کی آمدو رفت جاری رہتی ہے۔

    ٭ اے نفس ! تجھ میں آتشِ دوزخ کے شعلے برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے اور برے اعمال کی وجہ سے قریب ہے کہ تجھے ذلیل وخوار ہونے کے بعد وہ عذاب برداشت کرنا پڑے ۔
 (منہاج العابدین، ص ۱۵۲)
 (78)          ( اظہار کس سے کروں؟۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا ذوالنون مصری رضي اللہ تعالي عنہ  نماز کی نیت کرتے وقت بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے ،''اے مالک ومولا !تیری بارگاہ میں حاضری کے لئے کون سے پاؤں لاؤں ، کن آنکھوں سے قبلہ کی جانب نظر کروں ، تعریف کے وہ کون سے لفظ ہیں جن سے تیری حمد کروں ؟ لہذا! مجبوراً حیاء کو ترک کر کے تیرے حضور حاضر ہو رہا ہوں ۔''پھر
Flag Counter