(جَنّتی حور كے تبسم كانور.......) حضرت سَیِّدُنا سفیان ثوری رضي اللہ تعالي عنہ کے شاگردوں نے آپ کے خوفِ خدا عزوجل، کثرتِ عبادت اورفکرِ آخرت کو دیکھ کر عرض کی ،''اے استاذِ محترم! آپ اس سے کم درجے کی کوشش کے ذریعے بھی اپنی مراد پالیں گے ،ان شاء اللہ عزوجل۔''یہ سن کر آپ نے فرمایا،''میں کیسے زیادہ کوشش نہ کروں جبکہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اہلِ جنت اپنے مقام اور منازل میں موجود ہوں گے کہ اچانک ان پر نور کی ایک تجلی پڑے گی جس سے آٹھوں جنتیں جگمگا اٹھیں گی ۔ جنتی گمان کریں گے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا نور ہے اور سجدے میں گر جائیں گے پھر انہیں نداء کی جائے گی ، ''اے لوگو! اپنے سر کو اٹھاؤ، یہ وہ نہیں جس کا تمہیں گمان ہوا بلکہ یہ جَنَّتی عورت کے اس تبسم کا نور ہے جو اس نے اپنے شوہر کے سامنے کیا ہے ۔''