Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
85 - 161
 (75)     (چالیس سال تک آسمان کی طرف نہ دیکھا۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا عطاء سلمی رضي اللہ تعالي عنہ  جنہوں نے خوفِ خدا کی وجہ سے چالیس سال تک آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا ،اِن کے بارے میں منقول ہے کہ جب آپ رونا شروع کرتے تو تین دن اور تین رات مسلسل روتے رہتے ۔ اسی طرح جب کبھی آسمان پر بادل ظاہر ہوتے اور بجلی کڑکتی تو آپ کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ، بدن کانپنا شروع ہو جاتا ،آپ بے تاب ہوکر کبھی بیٹھ جایا کرتے اور کبھی کھڑے ہوجاتے اور ساتھ ہی روتے ہوئے کہتے ،''شاید میری لغزشوں اور گناہوں کی وجہ سے اہلِ زمین کو کسی مصیبت میں مبتلاء کیا جانے والا ہے ، جب میں مر جاؤں گا تو لوگوں کو بھی سکون حاصل ہو جائے گا ۔''

    اس کے علاوہ آپ روزانہ اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرماتے ،''اے نفس! تو اپنی حد میں رہ اور یاد رکھ تجھے قبر میں بھی جانا ہے ، پلِ صراط سے بھی گزرنا ہے ، دشمن (یعنی آنکڑے)تیرے ارد گرد موجود ہوں گے جو تجھے دائیں بائیں کھینچیں گے ، اس وقت قاضی ، رب تعالیٰ کی ذات ہو گی اور جیل ، جہنم ہو گی جبکہ اس کا داروغہ سَیِّدُنا مالک عليہ السلام ہوں گے ۔اس دن کا قاضی ناانصافی کی طرف مائل نہیں ہوگا اور نہ داروغہ کوئی رشوت قبول کریگا (معاذ اللہ) اور نہ ہی جیل توڑنا ممکن ہوگا کہ تو وہاں سے فرار ہو سکے ، قیامت کے دن تیرے لئے ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ اس کا بھی علم نہیں کہ فرشتے مجھے کہاں لے جائیں گے ، عزت وآرام کے مقام جنت میں یا حسرت اور تنگی کی جگہ جہنم میں ؟۔۔۔۔۔۔'' اس دوران آپ کی چشمانِ مبارک سے آنسو بھی بہتے رہتے ۔
Flag Counter