Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
84 - 161
تو مجھے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملتا ہے یا بائیں میں ، تیسری چیز یہ کہ جب میں میزانِ عد ل کے پاس کھڑا کیا جاؤں تو میری نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں کا ؟''

    یہ کہہ کر آپ زارو قطار رونے لگے اور کافی دیر آنسو بہانے کے بعد ارشاد فرمایا ، ''کاش ! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا کہ مجھے قیامت کی ہولناکیوں اور ہلاکتوں کی خبر ہی نہ ہوتی اور نہ ہی مجھے ان کا سامنا کرنا پڑتا۔''پھرجب رات کا وقت ہوا تو آپ کی حالت غیر ہونے لگی ، اسی وقت غیب سے آواز آئی کہ ''مالک بن دینار رضي اللہ تعالي عنہ  قیامت کی ہولناکیوں اور دہشتوں سے امن پاگیا۔'' آپ کے ایک شاگرد نے یہ آواز سنی تو دوڑ کر آپ کے پاس پہنچا ،اس نے دیکھا کہ آپ پر نزع کی کیفیت طاری تھی اور آپ انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کر کے کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے تھے، آپ نے آخری مرتبہ
''لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ''
کہا اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔
 (حکایات الصالحین، ص ۴۸)
 (74)         (روزانہ کا ایک گناہ بھی ہو تو؟۔۔۔۔۔۔ )
    پچھلی امتوں میں سے ایک بزرگ جن کا نام زید بن صمت (علیہ الرحمۃ)تھا ، ایک دن اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے ،''میرے دوستو! آج جب میں نے اپنی عمر کا حساب لگایا تو میری عمر ساٹھ سال بنتی ہے اور ان سالوں کے دن بنائے جائیں تو اکیس ہزار چھ سو بنتے ہیں ۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہر روز میں نے ایک گناہ بھی کیا ہوتو قیامت کے دن مجھے نہایت مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا کہ میں تو کسی ایک گناہ کا بھی حساب نہ دے پاؤں گا۔'' یہ کہنے کے بعد انہوں نے سر سے عمامہ اتار ا اور زاروقطار رونا شروع کر دیا ،یہاں تک کہ بے ہوش ہو گئے ۔ کچھ دیر بعد انہیں افاقہ ہوا تو پھر رونے لگے اور اتنی شدت سے گریہ وزاری کی کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ۔
 (حکایات الصالحین،ص ۴۹)
Flag Counter