Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
83 - 161
 (73)     (نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا گناہوں گا؟۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا مالک بن دینار رضي اللہ تعالي عنہ ایک مرتبہ قبرستان کے پاس سے گزررہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ لوگ ایک مردے کو دفن کر رہے ہیں ۔یہ دیکھ کر آپ بھی ان کے قریب جاکر کھڑے ہو گئے اور قبر کے اندر جھانک کر دیکھنے لگے۔ اچانک آپ نے رونا شروع کر دیا اور اتنا روئے کہ غش کھا کر زمین پر گر پڑے ۔لوگ مردے کو دفن کرنے کے بعد آپ کو چارپائی پر ڈال کر گھر لے آئے ۔

    کچھ دیر بعد حالت سنبھلی اور آپ ہوش میں آئے تو لوگوں سے فرمایا ،''اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے پاگل سمجھیں گے اور گلی کے بچے میرے پیچھے شور مچائیں گے تو میں پھٹے پرانے کپڑے پہنتا، سر میں خاک ڈالتا اور بستی بستی گھوم کر لوگوں سے کہتا ،''اے لوگو! جہنم کی آگ سے بچو۔'' اور لوگ میری یہ حالت دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرتے ۔''

پھر جب آپ کے وصال کا وقت قریب آیا تو اپنے شاگردوں کو یہ وصیت فرمائی کہ 

    ''میں نے تمہیں جو کچھ سکھایا ،اس کا حق ادا کرنا ،اور جب میں مر جاؤں تو میری پیشانی پر (بغیر روشنائی کے)یہ لکھوا دینا،''یہ مالک بن دینار ہے جو اپنے آقا کا بھاگا ہوا غلام ہے ۔'' پھر مجھے قبرستان لے جانے کے لئے چارپائی پر مت ڈالنا بلکہ میری گردن میں رسی ڈال کر ہاتھ پاؤں باندھ کر اس طرح لے جانا جیسے کسی بھاگے ہوئے غلام کو باندھ کر منہ کے بل  گھسیٹتے  ہوئے اُس کے آقا کے پاس لے جایا جاتا ہے۔ اور قیامت کے دن جب مجھے قبر سے اٹھایا جائے تو تین چیزوں پر غور کرنا ،پہلی چیز کہ اس دن میرا چہرہ سیاہ ہوتا ہے یا سفید ، دوسری چیز کہ جب اعمال نامے تقسیم کئے جارہے ہوں
Flag Counter