منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رضي اللہ تعالي عنہ چالیس برس تک نہیں ہنسے ۔ جب ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا جاتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قیدی ہیں جسے گردن اڑانے کے لئے لایا گیا ہو، اور جب گفتگو فرماتے تو انداز ایسا ہوتا گویا آخرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ، اور جب خاموش رہتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ جب ان سے اس قدر غمگین وخوف زدہ رہنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا ،''مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایااور یہ فرمادیا کہ جاؤ! میں تمہیں نہیں بخشتا۔تو میرا کیا بنے گا؟''