Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
81 - 161
اس جیسا نوجوان کہیں نہ ہوگا کہ اس کا جگر خوفِ الٰہی کی وجہ سے پھٹ چکا ہے ۔''
 (حکایات الصالحین،ص ۴۶)
 (70)          ( آہ! میرا کیا بنے گا؟۔۔۔۔۔۔ )
    منقول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رضي اللہ تعالي عنہ چالیس برس تک نہیں ہنسے ۔ جب ان کو بیٹھے ہوئے دیکھا جاتا تو یوں معلوم ہوتا گویا ایک قیدی ہیں جسے گردن اڑانے کے لئے لایا گیا ہو، اور جب گفتگو فرماتے تو انداز ایسا ہوتا گویا آخرت کو آنکھوں سے دیکھ دیکھ کر بتا رہے ہیں ، اور جب خاموش رہتے تو ایسا محسوس ہوتا گویا ان کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ جب ان سے اس قدر غمگین وخوف زدہ رہنے کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا ،''مجھے اس بات کا خوف ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے میرے بعض ناپسندیدہ اعمال کو دیکھ کر مجھ پر غضب فرمایااور یہ فرمادیا کہ جاؤ! میں تمہیں نہیں بخشتا۔تو میرا کیا بنے گا؟''
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۳۱)
ہر خطا تو درگزر کر بے کس ومجبور کی 

یاالٰہی عزوجل مغفرت کر بے کس ومجبور کی 

                                 نامہ بدکار میں حُسنِ عمل کوئی نہیں 

                                 لاج رکھنا روزِ محشر بے کس ومجبور کی
 (71)          ( خون کے آنسو۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا فتح موصلی رضي اللہ تعالي عنہ  جو کہ بہت متقی وپرہیز گار تھے ، ان کا معمول تھا کہ روزانہ رات کو ایک فلس(یعنی پرانے زمانے کا ایک سکہ) راہِ خدا میں خرچ کیا کرتے تھے ۔ ایک دن آپ اپنے مصلے پر بیٹھے خوفِ خدا کے سبب آنسو بہا رہے تھے، کہ آپ کا ایک
Flag Counter