Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
80 - 161
 (69)         ( کمر جُھک جانے کا سبب۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا سفیان ثوری رضي اللہ تعالي عنہ  کے بارے میں منقول ہے کہ آپ کی کمر جوانی ہی میں جھک گئی تھی ۔ لوگوں نے کئی مرتبہ اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آپ کا ایک شاگرد کافی عرصہ تک کسی موقع کی تلاش میں رہا کہ وہ آپ سے اس کا سبب دریافت کر سکے ۔آخر ایک دن اس نے موقع پاکر آپ سے اس بارے میں پوچھ ہی لیا، آپ نے پہلے تو حسبِ سابق کوئی جواب نہ دیالیکن پھر اس کے مسلسل اصرار پر فرمایا ،''میرے ایک استاذ جن کا شمار بڑے علماء میں ہوتا تھا اور میں نے ان سے کئی علوم وفنون سیکھے تھے، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو مجھ سے فرمانے لگے ، ''اے سفیان! کیا تو جانتا ہے کہ میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ؟ میں پچاس سال تک مخلوقِ خدا کو رب تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور گناہوں سے بچنے کی تلقین کرتا رہا ،لیکن افسوس! آج جب میری زندگی کا چراغ گل ہونے کو ہے تو اللہ عزوجل نے مجھے اپنی بارگاہ سے یہ فرماکر نکال دیا ہے کہ تو میری بارگاہ میں آنے کی اہلیت نہیں رکھتا ۔'' 

    اپنے استاذ کی یہ بات سن کر بوجھِ عبرت سے میری کمر ٹوٹ گئی، جس کے ٹوٹنے کی آواز وہاں موجود لوگوں نے بھی سنی ۔ میں اپنے رب عزوجل کے خوف سے آنسو بہاتا رہا، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ میرے پیشاب میں بھی خون آنے لگا اور میں بیمار ہوگیا ۔ جب بیماری شدت اختیار کر گئی تو میں ایک نصرانی حکیم کے پاس گیا ۔ پہلے پہل تو اسے میری بیماری کا پتہ نہ چل سکا پھر اس نے غور سے میرے چہرے کا جائز ہ لیا اور میری نبض دیکھی اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگا ، ''میرا خیال ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں
Flag Counter