| خوف خدا عزوجل |
مناجات کر رہا تھا،''اے اللہ عزوجل ! تو ہی میرا مالک ہے ! تو ہی میرا آقا ہے ! تیرے اس مسکین بندے نے تیری مخالفت کی بناء پر سیاہ کاریوں اور بدکاریوں کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ نفس کی خواہشات نے مجھے اندھا کر دیا تھا اور شیطان نے مجھے غلط راہ پر ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے میں گناہوں کی دلدل میں پھنس گیا ، اے اللہ !اب تیرے غضب اور عذاب سے کون مجھے بچائے گا ؟''
(یہ سن کر)میں نے باہر کھڑے کھڑے یہ آیت کریمہ پڑھی ،یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوۡنَ اللہَ مَاۤ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ ﴿۶﴾
اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سخت کرّے (یعنی طاقتور)فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں ۔
(ترجمۂ کنزالایمان ،پ ۲۸، التحریم ۶)
جب اس نے یہ آیت سنی تو اس کے غم کی شدت میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ شدتِ کرب سے چیخنے لگا اور میں اسے اسی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا ۔ دوسرے دن صبح کے وقت میں دوبارہ اس گھر کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ ایک میت موجود ہے اور لوگ اس کے کفن ودفن کے انتظام میں مصروف ہیں ۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ'' یہ مرنے والا کون تھا؟'' تو انہوں نے جواب دیا کہ،''مرنے والا ایک نوجوان تھا جو ساری رات خوفِ خدا کے سبب روتا رہا اور سحری کے وقت انتقال کر گیا ۔''(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۵۳۰،رقم الحدیث ۹۳۷)