Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
78 - 161
 (66)          ( بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا ثابت بن اسلم بُنانی رضي اللہ تعالي عنہ  تابعین بصرہ کے بڑے باوقار اور نامور علمائے حدیث میں سے تھے ۔ آپ پر خوفِ الٰہی کا بڑا غلبہ تھا ۔ جب بھی آپ کے سامنے جہنم کا تذکرہ کیا جاتا تو ایسے مضطرب ہوتے کہ تڑپنے لگتے اور بدن پر اتنا لرزہ طاری ہوجاتا کہ جسم کا کوئی نہ کوئی عضو الگ ہو جاتا۔
 (اولیائے رجال الحدیث ص۹۱)
 (67)          ( آنکھ کی بینائی جاتی رہی۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا اسود بن یزید رضي اللہ تعالي عنہ نہایت جلیل القدر تابعی ہیں اور عبادت وریاضت میں ان کا مقام بہت بلند ہے ۔ آپ خوفِ خدا عزوجل سے راتوں کو اس قدر رویا کرتے تھے کہ آپ کی ایک آنکھ کی بینائی رونے کی وجہ سے جاتی رہی اور اتنے لاغر ہوگئے کہ بدن پر گویا ہڈی اور کھال کے علاوہ کوئی بوٹی باقی نہیں رہ گئی تھی۔
 (اولیائے رجال الحدیث ص۳۷ )
 (68)     ( خوفِ خدا کے سبب انتقال کرنے والا۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت منصور بن عمار رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ میں کوفہ میں رات کے وقت ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک درد بھری آواز میری سماعت سے ٹکرائی ، اس آواز میں اتنا کرب تھا کہ میرے اٹھتے ہوئے قدم رک گئے اور میں ایک گھر سے آنے والی اس آواز کو غور سے سننے لگا ۔

    میں نے سنا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بندہ ان الفاظ میں اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں
Flag Counter