Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
77 - 161
کس طرح کعبہ کا طواف کروں ؟ ہائے! مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ جو قدم گناہ کی طرف چل چکے ہوں ، میں ان گنہگار قدموں کو خدا کے مقدس گھر کے پاس کس طرح رکھوں ؟'' یہ کہہ کر آپ زاروقطار رونے لگتے۔ آپ کے سامنے کوئی اللہ تعالیٰ کے قہر وجلال کا تذکرہ کر دیتا تو آپ مرغ بسمل کی طرح زمین پر تڑپنے لگتے ۔ ایک مرتبہ آپ کے سامنے کسی نے کہہ دیا کہ فلاں آدمی بڑا متقی ہے تو آپ نے فرمایا،''خاموش رہو!تم نے کسی متقی کو کبھی دیکھا بھی ہے؟ ارے نادان! متقی کہلانے کا حق دار وہ شخص ہے کہ اگر اس کے سامنے جہنم کا ذکر کر دیا جائے تو خوفِ الٰہی کے سبب اس کی روح پرواز کر جائے ۔''
 (اولیائے رجال الحدیث ص۱۴۰ )
 (65)          ( روح پرواز کر گئی۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت زُرارہ بن ابی اوفی رضي اللہ تعالي عنہ  نہایت ہی عابد وزاہد اور خوفِ الٰہی میں ڈوبے ہوئے عالم باعمل تھے ۔ تلاوتِ قرآن کے وقت وعید وعذاب کی آیات پڑھ کر لرزہ براندام بلکہ کبھی کبھی خوفِ خدا سے بے ہوش ہوجاتے تھے ۔ ایک دن فجر کی نماز میں جیسے ہی آپ نے یہ آیت تلاوت کی،
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوۡرِ ۙ﴿۸﴾فَذٰلِکَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیۡرٌ ۙ﴿۹﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن کرّا (یعنی سخت)دن ہے ۔(ترجمۂ کنزالایمان ،پ ۲۹، المدثر ۸،۹)
     تو نماز کی حالت میں ہی آپ پر خوف ِ الٰہی کا اس قدر غلبہ ہوا کہ لرزتے کانپتے ہوئے زمین پر گر پڑے اور آپ کی روح پرواز کر گئی ۔
 (اولیائے رجال الحدیث ص۱۲۳ )
Flag Counter