| خوف خدا عزوجل |
پھر اسی قسم کی دوسری آیات وعید قاری سے پڑھواتے رہے اور حاضرین کو عذاب ِ الٰہی سے ڈراتے رہے ۔ خود ان پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ خوفِ خدا سے لرزنے اور کانپنے لگے اور آپ کے پیٹ میں ایسا درد اٹھا کہ بے چین ہوگئے ۔کچھ لوگ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے اور طبیبوں نے بہت علاج کیا مگر درد میں کوئی کمی نہ واقع ہوئی۔ بالآخر اسی حالت میں آپ رضي اللہ تعالي عنہ کا انتقال ہوگیا ۔
(اولیائے رجال الحدیث ص۱۵۳ )
(63) ( پھوٹ پھوٹ کر روتے۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا ابو بِشر صالح مُرّی رضي اللہ تعالي عنہ بڑے نامو رمحدث تھے ۔ آپ بہت ہی سحر بیان واعظ بھی تھے ۔ وعظ کے دوران خود ان کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ خوفِ الٰہی سے کانپتے اور لرزتے رہتے اور اس قدر پھوٹ پھوٹ کر روتے جیسے کوئی عورت اپنے اکلوتے بچے کے مر جانے پر روتی ہے ۔ کبھی کبھی تو شدتِ گریہ اور بدن کے لرزنے سے آپ کے اعضاء کے جوڑ اپنی جگہ سے ہل جاتے تھے ۔ اور آپ کے بیان کا سننے والوں پر ایسا اثر ہوتا کہ بعض لوگ تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہو جاتے اور بعض انتقال کر جاتے ۔ آپ کے خوفِ خدا کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی قبر کو دیکھ لیتے تو دو دو، تین تین دن مبہوت وخاموش رہتے اور کھانا پینا چھوڑ دیتے ۔
(اولیائے رجال الحدیث ص۱۵۱)
(64) ( مجھے شرم آتی ہے۔۔۔۔۔۔ )
حضرت شقیق بن ابی سلمہ رضي اللہ تعالي عنہ ، حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رضي اللہ تعالي عنہ کے خاص شاگرد ہیں ۔ آپ پر خوفِ خدا عزوجل کا بڑا غلبہ تھا ۔ جب حرم کعبہ میں جاتے تو کہتے ،''میں