حضرت سَیِّدُنا طاؤس بن کیسان رضي اللہ تعالي عنہ ایک عظیم محدث اور تابعی تھے ۔ آپ علم وعمل کے اعتبار سے اپنے زمانے کے سردار تھے ۔ آپ پر خوفِ خداوندی کا بڑا غلبہ تھا اور بہت خدا ترس اور رقیق القلب تھے ۔ جب کسی بھڑکتی ہوئی آگ کو دیکھ لیتے تو جہنم کو یاد کر کے حواس باختہ ہو جاتے۔ ایک مرتبہ کسی ہوٹل والے نے ان کے سامنے تنور میں سے بکری کا سر بھون کر نکالا تو آپ اس کو دیکھ کر بے ہوش ہوگئے۔
(اولیائے رجال الحدیث ص۱۵۶ )
(62) (درد میں کمی واقع نہ ہوئی۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا ابوعثمان اسماعیل صابونی رضي اللہ تعالي عنہ بہت بڑے واعظ اور باکمال مفسر تھے ۔ ایک دن وعظ کے دوران کسی نے ان کے ہاتھ میں ایک کتاب دی جس میں خوفِ الٰہی سے متعلق مضامین تھے ۔آپ نے اس کتاب کی چند سطریں مطالعہ فرمائیں اورایک قاری سے کہا کہ یہ آیت پڑھو،
اَفَاَمِنَ الَّذِیۡنَ مَکَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ یَّخْسِفَ اللہُ بِہِمُ الۡاَرْضَ
تو کیا جو لوگ بڑے مکر کرتے ہیں ، اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ انہیں زمین