اور جب وہ آگ میں باہم جھگڑیں گے ۔ (ترجمۂ کنزالایمان، پ۲۴ ،المؤمن ۴۷)
جہنم کا نام سنتے ہی آپ بے ہوش ہو کر غسل خانے میں گر پڑے اور بہت دیرکے بعد آپ کو ہوش آیا۔ اسی طرح ایک شاگرد نے آپ کی کتاب'' جامع ابن وھب''میں سے قیامت کا واقعہ پڑھ دیا تو آپ خوف کی وجہ سے بے ہوش ہو کر گر پڑے اور لوگ آپ کو اٹھا کر گھر لے آئے ۔ جب بھی آپ کو ہوش آتا تو بدن پر لرزہ طاری ہوجاتا اور پھر بے ہوش ہو جاتے ، اسی حالت میں آپ کا انتقال ہو گیا۔
(اولیائے رجال الحدیث ص۱۹۱ )
(60) (''لبیک''کیسے کہوں؟۔۔۔۔۔۔ )حضرت سَیِّدُنا امام علی بن حسین زین العابدین رضي اللہ تعالي عنہ علمِ حدیث میں اپنے والد ِ ماجد حضرت سَیِّدُنا امام حسین ودیگر صحابہ کرام رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنہم کے وارث ہیں ۔ آپ بڑے خدا ترس تھے اور آپ کا سینۂ مبارک خشیتِ الٰہی کا سفینہ تھا ۔ ایک مرتبہ آپ نے حج کا احرام باندھا تو تلبیہ (یعنی لبیک)نہیں پڑھی ۔ لوگوں نے عرض کی ،''حضور! آپ لبیک کیوں نہیں پڑھتے ؟'' آبدیدہ ہو کر ارشاد فرمایا،''مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں لبیک کہوں اور اللہ عزوجل کی طرف سے
''لاَ لَبَّیْکْ''
کی آواز نہ آجائے ، یعنی میں تو یہ کہوں کہ'' اے میرے مالک ! میں بار بار تیرے دربار میں حاضر ہوں ۔'' اور ادھر سے یہ آواز نہ آجائے کہ'' نہیں نہیں ! تیری حاضری قبول نہیں ۔''لوگوں نے کہا ، ''حضور! پھر لبیک کہے بغیر آپ کا احرام کیسے ہوگا؟'' یہ سن کر آپ نے بلند آواز سے
لَبَّیْکْ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکْ لَبَّیْکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکْ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ