Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
73 - 161
روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں جاکر بیٹھ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد وہاں ایک قافلہ پہنچا تو شرکائے قافلہ آپس میں کہنے لگے کہ،''رات کو سفر مت کرو ، یہاں رک جاؤ کہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اطراف میں رہتا ہے ۔'' آپ نے قافلے والوں کی باتیں سنیں تو اور زیادہ رونے لگے کہ ،''افسوس ! میں کتنا گناہ گار ہوں کہ میرے خوف سے امتِ رسول اکے قافلے رات میں سفر نہیں کرتے اور گھروں میں عورتیں میرا نام لے کر بچوں کو ڈراتی ہیں ۔'' آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور آپ نے سچی توبہ کر کے یہ ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی کعبۃ اللہ کی مجاوری اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاروں گا ۔ چنانچہ آپ نے پہلے علمِ حدیث پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک صاحبِ فضیلت محدث ہوگئے اور حدیث کا درس دینا بھی شروع کر دیا ۔
 (اولیائے رجال الحدیث ص۲۰۶ )
 (58)          ( دن رات روتے رہتے۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت علی بن بکّار بصری رضي اللہ تعالي عنہ  بہت بڑے محدث اور زہد وتقوٰی سے متصف بزرگ تھے ۔ آپ کے دل پر خوف ِ خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ دن رات روتے رہتے حتی کہ آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔
 (اولیائے رجال الحدیث ص۱۹۶ )
 (59)     ( جہنم کا نام سن کر بے ہوش ہو گئے۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن وہب فہری رضي اللہ تعالي عنہ کو ایک لاکھ احادیث زبانی یاد تھیں ۔ آپ پر خوفِ الٰہی کا بڑا غلبہ تھا ۔ایک دن حمام میں تشریف لے گئے تو کسی نے یہ آیت
Flag Counter