Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
71 - 161
طاری ہوگیا ۔ خوفِ خدا کی شدت سے آپ کے ہوش وحواس جاتے رہے اور وہیں سجدے میں گر گئے ۔ پھر جب ہوش آیا تو کہنے لگے ،''
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ مَّقَامِ الْکَذَّابِیْنَ وَمِنْ اِعْرَاضِ الْجَاھِلِیْنَ ھَبْ لِیْ مِنْ رَحْمَتِکَ وَجَلِّلْنِیْ بِسِتْرِکَ وَاعْفُ عَنِّیْ بِکَرَمِکَ وَلاتکلنی اِلٰی غَیْرِکَ وَلاتقنطنی مِنْ خَیْرِکَ ۔
اے اللہ! میں کذّابوں کے مقام اور جاھلوں کے اعراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں ،مجھ اپنی رحمت عطا فرمادے ، میرے عیوب پر پردہ ڈال دے ، مجھے اپنے کرم کے صدقے معاف فرما دے ، مجھے غیر کے حوالے نہ فرما ، مجھے اپنی رحمت سے مایوس نہ کرنا ۔
 (تذکرۃ المحدثین بحوالہ مرقاۃ ج ۱ ، ص۲۱ )
 (54)          ( مجھے بھوک ہی نہیں لگتی۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا امام احمد بن حنبل رضي اللہ تعالي عنہ  کا فرمان ہے کہ،''خوفِ خد المجھے کھانے پینے سے روک رہا ہے اور مجھے بھوک ہی نہیں لگتی۔''
 (مکاشفۃ القلوب باب الخوف من الذنب،ص ۱۹۷)
 (55)     ( آنکھوں کی خوبصورتی جاتی رہی۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا یزید بن ہارون واسطی رضي اللہ تعالي عنہ  حافظِ حدیث تھے ۔ ان کی آنکھیں نہایت خوب صورت تھیں مگر یہ دن رات خوفِ الٰہی سے اس قدر رویا کرتے تھے کہ مستقل طور پر آشوبِ چشم کی شکایت پیدا ہوگئی یہاں تک کہ آنکھوں کی خوبصورتی وروشنی دونوں جاتی رہیں ۔
 (اولیائے رجال الحدیث ص۲۶۳ )
Flag Counter