| خوف خدا عزوجل |
چاہی تو اس نے کہا ''اللہ تعالیٰ سے ڈر اور یہ گناہ مت کر ۔''یہ سن کر میں اس گناہ سے رک گیا اوروہ دینار بھی اسی کو دے دئيے ۔ اے اللہ عزوجل!اگر میرا یہ عمل تیری رضا کے لئے تھا توہماری یہ مصیبت دور کر دے ۔''چٹان کچھ اور سرک گئی 'مگر وہ ابھی بھی باہر نہ نکل سکتے تھے ۔
تیسرے نے ایک مزدور کو اس کی امانت لوٹا دینے کو وسیلہ بنایا اور عرض کی ،''اے اللہ تعالیٰ! اگر میرا یہ عمل محض تیری رضا جوئی کے لئے تھا تو ہمیں اس پریشانی سے نجات دلا دے ۔'' چنانچہ چٹان مکمل طور پر ہٹ گئی اور وہ نکل کر چل پڑے ۔(ملخصًا) (صحیح المسلم ،باب قصۃ اصحاب الغار الثلاثۃ ، ص ۱۱۵۵، رقم الحدیث ۲۴۴۳)
(51) (مجھے جلا دینا۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رضي اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلي اللہ تعالي عليہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے زندگی بھر کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی ۔ اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ، ''جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری آدھی راکھ جنگل میں اڑا دینا جبکہ آدھی دریا کے سپرد کر دینا ، رب تعالیٰ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے میری گرفت کی تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا کہ پورے جہان میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا۔''
جب اس شخص کا انتقال ہو گیا تو اس کی رضا کے مطابق گھر والوں نے اس کی وصیت پوری کر دی ۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو اس کی راکھ جمع کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو اس نے اپنے اندر موجود تمام راکھ جمع کردی ۔ پھر جنگل کو بھی یہی حکم دیا ، اس نے بھی ایسا ہی کیا ۔ پھراللہ عزوجل سے اس شخص سے سوال کیا کہ ،''بتاؤ ! تم نے ایسا کیوں کیا؟'' اس نے