| خوف خدا عزوجل |
ہے اور کہا ں جائے گا؟'' اس نے عرض کی ،'' جو پانی میری سیدھی جانب سے آرہا ہے وہ میری دائیں آنکھ کے آنسو ہیں اور الٹی جانب سے آنے والا پانی میری بائیں آنکھ کے آنسو ہیں ۔'' آپ عليہ السلام نے پوچھا ،''تم یہ آنسو کس لئے بہا رہے ہو؟'' پتھر نے جواب دیا ،''اپنے رب کے خوف کی وجہ سے کہ کہیں وہ مجھے جہنم کا ایندھن نہ بنا دے ۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۵۲۸، رقم الحدیث ۹۳۲)
(50) (چٹان ہٹ گئی۔۔۔۔۔۔ )
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ''گزشتہ زمانے میں تین آدمی سفر میں تھے کہ رات گزارنے کے لئے انہیں ایک غار کا سہارا لینا پڑا ۔ جونہی وہ غار میں داخل ہوئے تو پہاڑ کے اوپر سے ایک چٹان ٹوٹ کر غار کے منہ پر آن گری ،جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے سوچا کہ ''اس چٹان سے چھٹکارا پانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم اپنے اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں ۔''
ان میں سے ایک شخص نے خدمتِ والدین کووسیلہ بنا کر دعا کی توچٹان تھوڑی سی سرک گئی لیکن وہ ابھی باہر نہ نکل سکتے تھے ۔
دوسرے نے اس طرح دعا کی ''یا اللہ عزوجل !میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی میں نے کئی مرتبہ اس سے بری خواہش کا اظہا ر کیا مگر اس نے انکار کر دیا ۔ یہاں تک کہ وہ قحط سالی میں مبتلا ہوئی اورمدد حاصل کرنے میرے پاس آئی۔ میں نے اسے سو دینار اس شرط پر دئيے کہ وہ میرے ساتھ تنہائی میں جائے ،لہٰذا وہ مجبوراً اس پر تیار ہوگئی ۔جب ہم تنہائی میں پہنچے اور میں نے اپنی خواہش پوری کرنا