سب لوگ واپس ہو لئے لیکن صرف ایک آنکھ والا شخص ساتھ ساتھ چلتا رہا ۔ حضرت موسیٰ عليہ السلام نے اس سے پوچھا ،''کیا تم نے میری بات نہیں سنی؟'' اس نے عرض کی،''جی ہاں ! سنی ہے ۔'' فرمانے لگے ،''کیا تم بالکل بے گناہ ہو؟'' اس نے جواب دیا،''حضور! مجھے اپنا کوئی گناہ یاد نہیں لیکن ایک گناہ کا تذکرہ کرتا ہوں اور وہ گناہ اب باقی رہا یا نہیں ، اس کا فیصلہ آپ ہی فرمائیں۔''آپ نے پوچھا ،''وہ کیا؟'' اس نے بتایا،''ایک دن میں نے راستے سے گزرتے ہوئے کسی کے مکان میں ایک آنکھ سے جھانکا تو کوئی کھڑا تھا، کسی کے گھر میں اس طرح جھانکنے کا مجھے بہت افسوس ہوا اور میں خوفِ خدا سے لرز اٹھا۔ پھر مجھ پر ندامت غالب آئی اور میں نے وہ آنکھ نکال کر پھینک دی جس سے جھانکا تھا ۔ اگر میرا وہ عمل گناہ تھا تو آپ فرما دیجئے ،میں واپس چلا جاتا ہوں۔''
حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عليہ السلاماس کی بات سن کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا،''ساتھ چلو!اب ہم دعا کرتے ہیں ۔ '' پھر آپ نے دعا فرمائی کہ ،''اے اللہ عزوجل!تیرا خزانہ کبھی ختم نہیں ہونے والا اور بخل تیری صفت نہیں ، اپنے فضل وکرم سے ہم پر پانی برسا دے ۔'' اتنا کہنا تھا کہ فوراً بارش شروع ہو گئی اور یہ دونوں حضرات بارش میں بھیگتے ہوئے پہاڑ سے واپس تشریف لائے ۔