| خوف خدا عزوجل |
جب اس آیتِ پاک کا ذکر کیا، تو ایک مرتبہ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کا شدید خوف غالب ہوا ،اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اس کا دم نکل گیا۔راتوں رات ہی اس کے غسل و کفن ودفن کا انتظام کر دیاگیا ۔
صبح جب یہ واقعہ حضرت عمرص کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ اس کے باپ کے پاس تعزیت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ نے اس سے فرمایا کہ ''ہمیں رات کو ہی اطلاع کیوں نہیں دی ،ہم بھی جنازے میں شریک ہو جاتے ؟''اس نے عرض کی ،''امیر المومنین!آپ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے مناسب معلوم نہ ہوا۔''آپ نے فرمایا کہ ''مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔''وہاں پہنچ کر آپ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی،وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ۴۶﴾
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں (ترجمۂ کنزالایمان، پ۲۷، الرحمن۴۶)
تو قبر میں سے اس نوجوان نے بلند آواز کے ساتھ پکار کر کہا کہ''یا امیر المومنین!بےشک میرے رب نے مجھے دو جنتیں عطا فرمائی ہیں۔''
(شرح الصدورص۲۱۳)
(48) (آنکھ نکال دی۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا کعب الاحباررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عليہ السلام کے زمانۂ مبارکہ میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا تو لوگوں نے آپ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ،''حضور! بارش کے لئے دعا کر دیجئے۔'' حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عليہ السلام نے ارشاد فرمایا،''میرے ساتھ پہاڑ پر چلو۔''چنانچہ سب لوگ آپ کے ساتھ چل پڑے ۔آپ نے اعلان فرمایا کہ ،''میرے ساتھ کوئی ایسا شخص نہ آئے جس نے کوئی گناہ کیا ہو۔''یہ سن کر