| خوف خدا عزوجل |
گا یا جنت میں داخل کیا جائے گا۔) یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضي اللہ تعالي عنہ بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)
(47) ( بے شک مجھے دوجنتیں عطا کی گئیں۔۔۔۔۔۔ )
حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ کے زمانہ مبارک میں ایک نوجوان بہت متقی و پرہیز گار وعبادت گزار تھا ۔حضرت عمررضي اللہ تعالي عنہ بھی اس کی عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے ۔وہ نوجوان نمازِ عشاء مسجد میں ادا کرنے کے بعداپنے بوڑھے باپ کی خدمت کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ راستے میں ایک خوبرو عورت اسے اپنی طرف بلاتی اور چھیڑتی تھی،لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ دئيے بغیر نگاہیں جھکائے گزرجایا کرتا تھا ۔ آخر کار ایک دن وہ نوجوان شیطان کے ورغلانے اور اس عورت کی دعوت پر برائی کے ارادے سے اس کی جانب بڑھا،لیکن جب دروازے پر پہنچا تو اسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالیشان یاد آ گیا،
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ
بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیارہو جاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ '' (ترجمۂ کنزالایمان پ۹،الاعراف ۲۰۱)
اس آیتِ پاک کے یاد آتے ہی اس کے دل پر اللہ تعالیٰ کا خوف اس قدر غالب ہوا کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا ۔جب یہ بہت دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کا بوڑھا باپ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا اور لوگوں کی مدد سے اسے اٹھوا کر گھر لے آیا۔ہوش آنے پر باپ نے تمام واقعہ دریافت کیا ،نوجوان نے پورا واقعہ بیان کر کے