| خوف خدا عزوجل |
صراط سے گزرو ، اس نے بھی چلنا شروع کیا لیکن یکایک وہ بھی دوزخ کی گہرائیوں میں اتر گیا ۔ ''آپ رضي اللہ تعالي عنہ نے پوچھا،''مزید کیا ہوا؟''اس نے جواب دیا ،''یا امیر المؤمنین !ان سب کے بعد آپ کو لایا گیا ۔۔۔۔۔۔ ''
کنیز کا یہ جملہ سنتے ہی سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضي اللہ تعالي عنہ نے خوف زدہ ہو کر چیخ ماری اور زمین پر گر گئے ۔ کنیز نے جلد ی سے کہا ''اے امیر المؤمنین ! رحمن عزوجل کی قسم ! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامتی کے ساتھ پلِ صراط پار کر لیا ۔''لیکن سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضي اللہ تعالي عنہ کنیز کی بات نہ سمجھ پائے کیونکہ آپ پر خوف کا ایسا غلبہ طاری تھا کہ آپ بے ہوشی کے عالم میں بھی اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ۔(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۳۱)
(46) (بے ہوش ہو کر گر گئے۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا یزید رقاشی رضي اللہ تعالي عنہ ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رضي اللہ تعالي عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ نے فرمایا،''یا امیر المؤمنین !یاد رکھئے کہ آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جو مر جائیں گے ۔(یعنی آپ سے پہلے گزرنے والے خلفاء کو موت نے آلیا تھا۔) ''یہ سن کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضي اللہ تعالي عنہ رونے لگے اور عرض کرنے لگے ، ''کچھ اور بھی فرمائيے۔'' تو آپ نے کہا،'' اے امیر المؤمنین ! حضرت آدم عليہ السلام سے لے کر آپ تک آپ کے سارے آباؤ اجداد فوت ہوچکے ہیں ۔''یہ سن کر آپ مزید رونے لگے اور عرض کی ،''مزید کچھ بتائيے۔'' آپ نے فرمایا ،''آپ کے اور جنت ودوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے ۔(یعنی دوزخ میں ڈالا جائے