(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)
(45) ( پُلِ صراط سے گزرو۔۔۔۔۔۔ )
امیر المؤمنین سَیِّدُناعمر بن عبدالعزیز رضي اللہ تعالي عنہ کی ایک کنیز آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی ،''عالی جاہ! میں نے خواب میں عجیب معاملہ دیکھا۔''آپ کے دریافت کرنے پر وہ یوں عرض گزار ہوئی کہ،''میں نے دیکھاکہ جہنم کو بھڑکایا گیااور اس پر پل صراط رکھ دیا گیا پھر اُموی خلفاء کو لایا گیا ۔ سب سے پہلے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو اس پل ِ صراط سے گزرنے کا حکم دیاگیا ،چنانچہ وہ پلِ صراط پر چلنے لگالیکن افسوس! وہ تھوڑا سا چلا کہ پل الٹ گیا اور وہ جہنم میں گر گیا۔''حضرت عمر بن عبدالعزیز رضي اللہ تعالي عنہ نے دریافت کیا،''پھر کیا ہوا؟'' کنیز نے کہا ،'' پھر اس کے بیٹے ولید بن عبدالملک کو لایا گیا ، وہ بھی اسی طرح پلِ صراط پار کرنے لگا کہ اچانک پلِ صراط پھر الٹ گیا، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں جاگرا ۔''آپ ص نے سوال کیاکہ ، ''اس کے بعدکیا ہوا؟''اس نے عرض کی،'' اس کے بعد سلیمان بن عبدالملک کو حاضر کیا گیا ، اسے بھی حکم ہوا كہ پلِ