Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
62 - 161
اور میں نہیں جانتا کہ اس سے بعافیت گزر جاؤں گا یا نہیں۔''
 (حلیۃ الاولیاء ، جلد ۱، ص ۱۱۷)
 (42)         (ایک حبشی کا خوفِ خدا عزوجل۔۔۔۔۔۔ )
     ایک حبشی نے سرکارمدینہ ،سُرور قلب وسینہ ا کی بارگاہ میں عرض کی ، ''یارسول اللہ  صلي اللہ تعالي عليہ وسلم!میرے گناہ بے شمار ہیں ،کیا میری توبہ بارگاہِ الٰہی عزوجل میں قبول ہو سکتی ہے ؟'' آپ نے ارشاد فرمایا ،''کیوں نہیں ۔''اس نے عرض کی ،''کیا وہ مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھتا بھی رہا ہے ؟'' ارشاد فرمایا ،''ہاں! وہ سب کچھ دیکھتا رہا ہے ۔''یہ سن کر حبشی نے ایک چیخ ماری اور زمین پر گرتے ہی جاں بحق ہوگیا ۔
 (کیمیائے سعادت،ج۲،ص۸۸۶ )
 (43)          (کیا اللہ عزوجل کو بھی خبر نہیں؟۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سیدنا عبداللہ بن دینار رضي اللہ تعالي عنہ  فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  کے ہمراہ مکہ مکرمہ کی طرف جارہا تھا کہ ایک جگہ ہم تھوڑی دیر آرام کے لئے رکے ۔ اتنے میں ایک چرواہا ادھر سے بکریاں لئے ہوئے گزرا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  نے اس سے کہا کہ ،''ایک بکری میرے ہاتھ فروخت کردو۔'' اس نے عرض کی،'' یہ بکریاں میری ذاتی ملک نہیں ہیں ، بلکہ میں تو کسی کا غلام ہوں ۔'' آپ نے (بطورِ آزمائش )فرمایا،''مالک سے کہہ دینا کہ ایک بکری کو بھیڑیا اٹھا کر لے گیا ، اُسے کیا پتہ چلے گا ۔'' چرواہے نے جواب دیا ،'' اگر اسے نہ بھی معلوم ہو تو کیا خدا عزوجل کو بھی خبر نہیں ہے ؟''یہ سن کر حضرت سیدنا عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  زاروقطار رونے لگے اور اس چرواہے کے
Flag Counter