وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ۔
جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ (ترجمۂ کنزالایمان ،پ۲۸،التحریم۶)
پھر فرمایا ،''جہنم کی آگ ایک ہزار برس جلائی گئی تو وہ سرخ ہوگئی ، پھر ایک ہزار سال تک دہکائی گئی تو سفید ہوگئی ، پھر ہزار سال بھڑکائی گئی تو سیاہ ہوگئی ، اور اب وہ سیاہ و تاریک ہے۔'' یہ سن کرایک حبشی جو وہاں موجود تھا ،رونے لگا ۔ مدنی سرکارصلي اللہ تعالي علیہ وسلم نے پوچھا ،''یہ کون رو رہا ہے؟''عرض کی گئی ،''حبشہ کا رہنے والا ایک شخص ہے ۔'' آپ نے اس کے رونے کو پسند فرمایا ۔ حضرت سَیِّدُنا جبرائیل عليہ السلام وحی لے کر اترے کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے ،''مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ! میرا جو بندہ دنیا میں میرے خوف سے روئے گا، میں ضرور اسے جنت میں زیادہ ہنساؤں گا۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۴۹۰،رقم الحدیث ۷۹۹ )
(39) (میں کون سی مٹھی میں ہوں گا؟۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنامعاذبن جبل رضي اللہ تعالي عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو رونے لگے ۔