حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ نے حقیقتِ حال جانے کے لئے ایک آدمی کوسو دینار کی تھیلی دے کر ان کے گھر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ جب تم خدا خوفی کی کوئی بات دیکھو ،یہ تھیلی ان کی خدمت میں پیش کر دینا۔ وہ آدمی تین دن تک آپ کے معمولات کا مشاہدہ کرتا رہا ۔ اس نے دیکھا کہ آپ دن کو روزہ رکھتے ،شام کے وقت ایک روٹی اور زیتون کے تیل کے ساتھ روزہ افطار فرماتے ہیں اورپوری رات عبادت میں گزارتے ہیں ۔جب تیسرا دن آیا تو اس نے وہ تھیلی آپ کی بارگاہ میں پیش کر دی اور ساتھ امیر المؤمنین کا حکم بھی سنایا۔ آپ یہ سب دیکھ کر رو پڑے تو اس آدمی نے آپ کے رونے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا،'' مجھے سونا دے کر آزمایا گیا ہے حالانکہ میں رسول اللہ صلي اللہ تعالي عليہ وسلم کا صحابی ہوں ،کاش! حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ مجھے کبھی نہ دیکھ سکیں ۔'' آپ نے اس وقت ایک پرانی قمیض پہن رکھی تھی ،جسے آپ نے چاک کر دیا اور پانچ دینار اپنے پاس رکھ کر بقیہ راہِ خد امیں صدقہ کر دئيے ۔ کچھ عرصے بعد امیر المؤمنین حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ نے آپ سے ان دیناروں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے عرض کی،''میں نے وہ دینار اللہ تعالیٰ کے پاس امانتاً رکھوا دیئے ہیں کہ قیامت کے دن مجھے واپس کر دینا ۔''