Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
59 - 161
    حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  نے حقیقتِ حال جانے کے لئے ایک آدمی کوسو دینار کی تھیلی دے کر ان کے گھر بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ جب تم خدا خوفی کی کوئی بات دیکھو ،یہ تھیلی ان کی خدمت میں پیش کر دینا۔ وہ آدمی تین دن تک آپ کے معمولات کا مشاہدہ کرتا رہا ۔ اس نے دیکھا کہ آپ دن کو روزہ رکھتے ،شام کے وقت ایک روٹی اور زیتون کے تیل کے ساتھ روزہ افطار فرماتے ہیں اورپوری رات عبادت میں گزارتے ہیں ۔جب تیسرا دن آیا تو اس نے وہ تھیلی آپ کی بارگاہ میں پیش کر دی اور ساتھ امیر المؤمنین کا حکم بھی سنایا۔ آپ یہ سب دیکھ کر رو پڑے تو اس آدمی نے آپ کے رونے کا سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا،'' مجھے سونا دے کر آزمایا گیا ہے حالانکہ میں رسول اللہ  صلي اللہ تعالي عليہ وسلم کا صحابی ہوں ،کاش! حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  مجھے کبھی نہ دیکھ سکیں ۔'' آپ نے اس وقت ایک پرانی قمیض پہن رکھی تھی ،جسے آپ نے چاک کر دیا اور پانچ دینار اپنے پاس رکھ کر بقیہ راہِ خد امیں صدقہ کر دئيے ۔ کچھ عرصے بعد امیر المؤمنین حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ  نے آپ سے ان دیناروں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے عرض کی،''میں نے وہ دینار اللہ تعالیٰ کے پاس امانتاً رکھوا دیئے ہیں کہ قیامت کے دن مجھے واپس کر دینا ۔''
 (حکایات الصالحین،ص ۱۲۴)
 (37)     (مجھے کس طرف جانے کا حکم ہوگا؟۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا مسلم بن بشیر رضي اللہ تعالي عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رضي اللہ تعالي عنہ بیمار ہوئے تو رونے لگے ۔ جب آپ سے رونے کا سبب دریافت کیا گیاتو فرمایا،''مجھے دنیا سے رخصتی کا غم نہیں رلا رہا بلکہ میں تو اس لئے رورہا ہوں کہ میرا سفر کٹھن اور طویل ہے جبکہ میرے پاس زادِ سفر بھی کم ہے اور میں گویا ایسے ٹیلے پر جاپہنچاہوں جس کے بعد جنت اور دوزخ کا راستہ ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہوگا؟''
Flag Counter