Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
58 - 161
جوڑے پر مشتمل تھا ،سمیٹا اور مدینۃ المنورہ روانہ ہوگئے ۔جب یہ مدینہ طیبہ میں حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ کے پاس پہنچے تو بڑے غمگین اور پریشان دکھائی دئيے ۔ آپ کی اس پریشانی کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  نے پوچھا،''شاید آپ کو وہ شہر راس نہیں آیا؟'' تو آپ نے عرض کی ،''اے امیر المؤمنین ! بات دراصل یہ ہے کہ میرے پاس کو ئی ایسی موزوں چیز نہیں جو آپ کو دکھا سکوں اور نہ ہی میرے پاس دنیا کا مال واسباب ہے ۔'' حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  نے پوچھا ،''پھر آپ کے پاس کیا ہے؟'' آپ نے جواب دیا،''میرے پاس یہ ایک عصا ہے جس سے میں سہارا لیتا ہوں، یہ ایک پیالہ ہے جس میں کھانا کھاتا ہوں اور یہ موزے ہیں جو پاؤں میں پہنتا ہوں اور ایک کوزہ ہے جس میں پانی پیتا ہوں،اس کے علاوہ کچھ نہیں۔'' 

    یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  نے فرمایا،''کیا اس شہر میں کوئی بھی مخیر آدمی نہ تھا جو آپ کو سواری ہی مہیا کر دیتا ،آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک امیر دیا تھا جو ان کے معاملات کو سنبھالتا تھا۔'' پھر خادم سے فرمایا ،''جاؤ !ایک کاغذ اور قلم لے کر آؤ ، میں ان کے لئے نیا حکم نامہ لکھ دوں۔'' یہ سن کر آپ نے عرض کی ،''امیر المؤمنین ! مجھے معاف فرما دیں ،آپ کو خدا کا واسطہ مجھے اس آزمائش میں نہ ڈالیں کیونکہ میں نے ایک دن ایک نصرانی کو یہ کہہ دیا تھا کہ،''اللہ تعالیٰ تجھے رسواء کرے۔'' اب مجھے خوف ہے کہ رب تعالیٰ کہیں اسی بات پر میری پکڑ نہ فرما لے ۔ '' آپ کی اس خدا خوفی کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  رو پڑے اور فرمایا،''ٹھیک ہے ! آپ کو یہ ذمہ داری نہیں دی جارہی۔'' اس کے بعد آپ اپنے گھر چلے آئے ۔