Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
57 - 161
                            آہ! سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے 

                            کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا 

کاش! میں مدینے کا کوئی دنبہ ہوتا یا 

سینگ والا چتکبرا مینڈھا بن گیا ہوتا 

                            آہ! کثرتِ عصیاں ، ہائے ! خوف دوزخ کا 

                            کاش! اس جہاں کا میں نہ بشر بنا ہوتا 

(ارمغانِ مدینہ از امیر اہلِ سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی)
(35)         (جگر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔ )
     مروی ہے کہ ایک نوجوان انصاری صحابی پر دوزخ کا ایسا خوف طاری ہوا کہ وہ مسلسل رونے لگے اور اپنے آپ کو گھر میں قید کر لیا ۔ نبی اکرم صلي اللہ تعالي عليہ وسلم تشریف لائے اور ان کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ انتقال کر گئے ۔ رسول اکرم صلي اللہ تعالي عليہ وسلم نے فرمایا،'' اپنے ساتھی کے کفن ودفن کا انتظام کرو ،جہنم کے خوف نے انس کے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے ۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۵۳۰،رقم الحدیث ۹۳۶)
(36)          ( امانت رکھوا دیئے ہیں۔۔۔۔۔۔ )
    امیر المؤمنین سَیِّدُنا حضرت عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ نے حمص شہر میں سَیِّدُنا عمر بن سعید رضي اللہ تعالي عنہ کو گورنر بنا کر بھیجا۔ جب ایک سال گزر گیا تو حضرتِ عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  نے انہیں خط لکھا کہ اپنا مال واسباب لے کر مدینہ شریف پہنچ جاؤ ۔ جیسے ہی حضرتِ عمر بن سعید کو یہ خط ملا ،انہوں نے اپنا سامان جو کہ ایک عصا،ایک پیالے،ایک کوزے اور موزوں کے ایک
Flag Counter