امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ رضي اللہ تعالي عنہ نے ایک مرتبہ فجر کی نماز پڑھائی، آپ اس وقت غمگین تھے اور اپنا ہاتھ الٹ پلٹ کر رہے تھے پھر فرمانے لگے کہ ''میں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے صحابہ رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنہم کو دیکھا ہے لیکن آج ان جیسا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ان کی صبح اس حال میں ہوتی تھی کہ بال بکھرے ہوتے ، رنگ زرد ہوتا ، چہرے پر گردو غبار ہوتا ، ان کی آنکھوں کی درمیانی جگہ بکریوں کی رانوں کی طرح ہوتی ، ان کی راتیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قیام اور سجدے میں گزرتیں ، وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ،اپنی پیشانی اور پاؤں پر باری باری زور ڈالتے ۔ صبح ہوجاتی تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے اس طرح کانپتے ، جس طرح ہوا کے ساتھ درخت کے پتے ہلتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اتنے آنسو بہتے کہ ان کے کپڑے تر ہوجاتے ۔''
پھر فرمانے لگے '' اللہ کی قسم! میں گویا ایسی قوم کے ساتھ ہوں جو غفلت میں رات گزارتے ہیں ۔'' اتنا کہہ کر آپ کھڑے ہوگئے اور اس کے بعد کسی نے آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ابن ملجئم نے آپ کو شہید کردیا ۔