Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
54 - 161
مرنے کے بعد نہ اٹھایا جائے ۔''
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)
 (27)          (راکھ ہوجانا پسند کروں گا۔۔۔۔۔۔ )
    اسی طرح ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عثمان غنی  رضي اللہ تعالي عنہ نے فرمایا،''اگر مجھے جنت اور جہنم کے درمیان لایا جائے اوریہ معلوم نہ ہو کہ مجھے دونوں میں سے کس میں ڈالا جائے گا؟ تو میں وہیں راکھ ہو جانا پسند کروں گا ۔''
 (حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المھاجرین ، ج۱،ص۹۹، رقم الحدیث۱۸۲)
 (28)     (میں تجھے تین طلاق دے چکا ہوں۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا ضرار کنانی رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ ،''میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا علی رضي اللہ تعالي عنہ کو کئی مرتبہ دیکھا ،اس وقت کہ جب رات کی تاریکی چھارہی ہوتی ، ستارے ٹمٹما رہے ہوتے اور آپ اپنے محراب میں لرزاں وترساں اپنی داڑھی مبارک تھامے ہوئے ایسے بے چین بیٹھے ہوتے کہ گویا زہریلے سانپ نے ڈس لیا ہو ۔ آپ غم کے ماروں کی طرح روتے اور بے اختیار ہوکر ''اے میرے رب ! اے میرے رب ! ''پکارتے ، پھر دنیا سے مخاطب ہو کر فرماتے ، ''تو مجھے دھوکے میں ڈالنے کے لئے آئی ہے ؟ میرے لئے بن سنور کر آئی ہے ؟ دور ہوجا! کسی اور کو دھوکا دینا ، میں تجھے تین طلاق دے چکاہوں ، تیری عمر کم ہے اور تیری محفل حقیرجبکہ تیرے مصائب جھیلنا آسان ہیں ، آہ صد آہ!زادِ راہ کی کمی ہے اور سفرطویل ہے جبکہ راستہ وحشت سے بھر پور ہے ۔''
 (حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، ج ۱، ص۸۵ )
Flag Counter