Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
52 - 161
،''کاش! میں یہ تنکا ہوتا ،کاش! میرا ذکر نہ ہوتا ، کاش ! مجھے بھلا دیا گیا ہوتا ، کاش! میری ماں مجھے نہ جنتی ۔''
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)
(22)          (بے ہوش ہو کر گر پڑے۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ  فرماتے کہ،''جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ غصہ نہیں دکھاتا اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تقوٰی اختیار کرتا ہے وہ اپنی مرضی نہیں کرتا اور اگر قیامت نہ ہوتی تو ہم کچھ اور دیکھتے ۔'' آپ نے ایک مرتبہ یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ، ''
اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ۪ۙ﴿۱﴾
جب دھوپ لپیٹی جائے ۔''(ترجمہ کنزالایمان ۔پ۳۰، التکویر)
   پھر جب اس آیت پر پہنچے ،''
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿۪ۙ۱۰﴾
اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں ۔(ترجمہ کنزالایمان، پ۳۰، التکویر۱۰)'' تو بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۶)
 (23)          (آگے نہ پڑھ سکے۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت عبید بن عمر رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ نے فجر کی نماز پڑھائی اور سورۂ یوسف کی قرأت کی ، جب اس آیت پر پہنچے ،
وَابْیَضَّتْ عَیۡنٰہُ مِنَ الْحُزْنِ فَہُوَکَظِیۡمٌ ﴿۸۴﴾
اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہو گئیں تو وہ غصہ کھاتا رہا ۔(ترجمہ کنزالایمان ،پ۱۳، یوسف ۸۴)
    تو رونے لگے اور خوف ِخدا کے غلبہ کی وجہ سے آگے نہ پڑھ سکے اور رکوع کردیا۔
 (کنزالعمال ج۱۲،ص۲۶۴،رقم الحدیث۳۵۸۲۸)
Flag Counter