زمانہ جاہلیت میں منترسے کسی کا علاج کیا تھا جس پر انہوں نے مجھے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا ۔آج جب میں ان کے قریب سے گزرا تو انہوں نے مجھے بطور معاوضہ یہ کھانا دیا۔ ''
یہ سن کر حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي اللہ تعالي عنہ نے فرمایا ،''افسوس! تونے مجھے ہلاک کر دیا ۔'' پھر آپ نے اپنے حلق میں ہاتھ ڈالا تاکہ قے کر سکیں لیکن وہ شے جسے آپ نے خالی پیٹ کھایا تھا، نہ نکل سکی۔ آپ کو بتایا گیا کہ پانی پئے بغیر یہ لقمہ نہیں نکلے گا۔ چنانچہ آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور مسلسل پانی پیتے رہے اور اس لقمہ کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے (حتی کہ اس میں کامیاب ہوگئے ) ۔ جب آپ سے عرض کی گئی کہ'' اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! آپ نے ایک لقمہ کی وجہ سے اتنی تکلیف اٹھائی ۔'' تو ارشاد فرمایا ، ''میں نے سرورِ عالم ، نورِ مجسم ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جسم کا جو حصہ مال حرام سے بنا ہے ، وہ دوزخ کا زیادہ حق دار ہے ، تو مجھے خوف ہوا کہ وہ لقمہ کہیں میرے بدن کا حصہ نہ بن جائے ۔ ''