Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
50 - 161
زمانہ جاہلیت میں منترسے کسی کا علاج کیا تھا جس پر انہوں نے مجھے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا ۔آج جب میں ان کے قریب سے گزرا تو انہوں نے مجھے بطور معاوضہ یہ کھانا دیا۔ ''

     یہ سن کر حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي اللہ تعالي عنہ نے فرمایا ،''افسوس! تونے مجھے ہلاک کر دیا ۔'' پھر آپ نے اپنے حلق میں ہاتھ ڈالا تاکہ قے کر سکیں لیکن وہ شے جسے آپ نے خالی پیٹ کھایا تھا، نہ نکل سکی۔ آپ کو بتایا گیا کہ پانی پئے بغیر یہ لقمہ نہیں نکلے گا۔ چنانچہ آپ نے پانی کا پیالہ منگوایا اور مسلسل پانی پیتے رہے اور اس لقمہ کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے (حتی کہ اس میں کامیاب ہوگئے ) ۔ جب آپ سے عرض کی گئی کہ'' اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! آپ نے ایک لقمہ کی وجہ سے اتنی تکلیف اٹھائی ۔'' تو ارشاد فرمایا ، ''میں نے سرورِ عالم ، نورِ مجسم ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جسم کا جو حصہ مال حرام سے بنا ہے ، وہ دوزخ کا زیادہ حق دار ہے ، تو مجھے خوف ہوا کہ وہ لقمہ کہیں میرے بدن کا حصہ نہ بن جائے ۔ ''
(حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، ج ۱، ص۳۷،رقم الحدیث ۴۱)
(18)          (رونے کی آواز۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ'' میں نے امیرالمؤمنین سَیِّدُنا عمرفاروق رضي اللہ تعالي عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھا کہ تین صفوں تک ان کے رونے کی آواز پہنچ رہی تھی ۔ ''
(19)          (سواری سے گر پڑے۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ جب کسی آیتِ عذاب کو سنتے تو غش کھا کر گر
Flag Counter