(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۳)
(16) (کاش! میں ایک پرندہ ہوتا۔۔۔۔۔۔ )
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي اللہ تعالي عنہ نے ایک پرندے کو درخت پر بیٹھا دیکھا تو فرمایا ، ''بہت خوب اے پرندے!تو کھاتا پیتا ہے لیکن تجھ پر حساب نہیں ، اے کاش! میں تیری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا ۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۴۸۵،رقم الحدیث ۷۸۸ )
(17) (افسوس! تونے مجھے ہلاک کردیا۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رضي اللہ تعالي عنہ کا ایک غلام تھا جو اکثر آپ کی خدمت میں ھدایہ(یعنی تحفے)پیش کیا کرتا تھا ۔ ایک رات وہ آپ کے لئے کوئی کھانے کی چیز لایا ،جسے آپ نے کھا لیا ۔ غلام نے عرض کی ،'' آپ روزانہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ چیز کہاں سے لائے ،لیکن آج دریافت نہیں فرمایا؟ '' آپ نے ارشاد فرمایا کہ'' شدتِ بھوک کی وجہ سے یاد نہ رہا ،(اب بتاؤ) تم یہ چیز کہاں سے لائے ؟''اس نے جواب دیا کہ میں نے