(13) (جہنم میں نہ ڈال دیا جاؤں۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا جبرائیل عليہ السلام ایک مرتبہ بارگاہِ رسالت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے تو رحمتِ دو عالم ، نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے دریافت کیا ،''اے جبرائیل عليہ السلام ! تمہیں کس چیز نے رلا دیا؟'' انہوں نے عرض کی،'' جب سے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے ، میری آنکھیں اُس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں ڈال دیا جاؤں ۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۵۲۱،رقم الحدیث ۹۱۵)
(14) ( سَیِّدُنا جبرائیل عليہ السلام کی گریہ وزاری۔۔۔۔۔۔ )
منقول ہے کہ ابلیس (یعنی شیطان )نے اَسّی ہزارسال عبادت میں گزارے اور ایک قدم کے برابر بھی کوئی جگہ نہ چھوڑی جس پر اس نے سجدہ نہ کیا ہو ۔ پھر جب اس نے رب تعالیٰ کی حکم عدولی کی تو اللہ عزوجل نے اسے اپنی بارگاہ سے مردود کر دیا ،قیامت تک کے لئے اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا گیا ،اس کی ساری عبادت ضائع ہو گئی اوراسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جلنے کی سزا دے دی گئی ۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے حضرت جبرائیل عليہ السلام کو دیکھا کہ ابلیس کے انجام سے عبرت گیر ہو کر کعبہ مشرفہ کے پردہ سے لپٹ کر نہایت گریہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کر رہے ہیں ،''اِلٰھِی وَسَیِّدِیْ لَا تُغَیِّرْ اِسْمِیْ وَلَا تُبَدِّلْ جِسْمِیْ ۔
یعنی اے میرے اللہ ! اے میرے مالک ! کہیں میرا