| خوف خدا عزوجل |
کی طرح آزمائش نہ آجائے ۔ '' یہ سن کر رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم بھی رونے لگے ۔ یہ دونوں روتے رہے یہاں تک کہ نداء دی گئی ،''اے جبرائیل عليہ السلام اور اے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم!اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کو نافرمانی سے محفوظ فرمادیا ہے ۔''پھر حضرت جبرائیل عليہ السلام چلے گئے اور رسول اللہ اباہر تشریف لے آئے ۔
(مکاشفۃ القلوب ،ص۳۱۷)
(10) (کانپ رہے ہوتے۔۔۔۔۔۔ )
تاجدارِ حرم انے فرمایا،''حضرت جبرائیل عليہ السلام جب بھی میرے پاس آئے تو اللہ عزوجل کے خوف کی وجہ سے کانپ رہے ہوتے ۔''
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۳)
(11) (تم اسی حالت پر رہنا۔۔۔۔۔۔ )
منقول ہے کہ جب ابلیس کے مردود ہونے کا واقعہ ہوا تو حضرت جبرائیل اور حضرت میکائیل عليہ السلام رونے لگے تو رب تعالیٰ نے دریافت کیا کہ ''تم کیوں روتے ہو؟'' انہوں نے عرض کی،''اے رب عزوحل! ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہیں۔'' رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا،''تم اسی حالت پر رہنا(یعنی کبھی مجھ سے بے خوف مت ہونا)۔''
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص۲۲۳ )
(12) (دِل اڑنے لگے۔۔۔۔۔۔ )
حضرت محمد بن منکدررضي اللہ تعالي عنہ سے مروی ہے کہ ''جب آگ کو پیدا کیا گیا تو فرشتوں کے دل اپنی جگہ سے اڑنے لگے پھر جب انسانوں کو پیدا کیا گیا تو واپس